قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 124
قدرت ثانیہ کا دور اوّل اور تھوڑے ہی عرصہ میں 2500 روپے کی رقم جمع کر لی اور قریباً اتنی ہی رقم ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کی ہمشیرہ کی وصیت کے مطابق مسجد کی تعمیر کے لئے مل گئی اور اس طرح غیر معمولی طور پر اس عظیم الشان مسجد کی تعمیر کا سامان ہو گیا جسے (مسجد نور ) کہا جاتا ہے۔23 اپریل 1910 ء تک اس مسجد کا اکثر حصہ مکمل ہو گیا اور اس دن حضرت خلیفہ اول نے عصر کی نماز پڑھائی اور بعد نماز قرآن مجید کا درس روائتی شان کے ساتھ دیا اور اس طرح اس مسجد کا افتتاح (جو بعد میں ظہور قدرت ثانیہ کا مقام بنی ) نماز اور خدا کے کلام کے مطالب و معانی بیان کرتے ہوئے کیا۔حضرت خلیفہ اول کے بعد خلافت ثانیہ کا انتخاب اسی مسجد میں عمل میں آیا۔محلہ دار العلوم۔بورڈنگ تعلیم الاسلام ہائی سکول تعلیم الاسلام ہائی سکول میں طلباء کی بڑھتی ہوئی تعداد کے لئے پرانی عمارت ( جو شہر میں تھی ) کفایت نہ کر سکتی تھی نیز شہر کے اندر ہونے کی وجہ سے پڑھائی کے لئے ماحول بھی مناسب نہ تھا۔اس لئے مناسب سمجھا گیا کہ قصبہ کے باہر کھلی فضا میں ایک وسیع عمارت بورڈنگ ہاؤس کی تیار کی جائے۔اس غرض کے لئے قادیان کی شمالی جانب ایک نیا محلہ دار العلوم آباد کیا چالیس بیگھے زمین حاصل کی گئی اور اس میں 5 مارچ 1910ء کو حضرت خلیفہ اول نے ایک لمبی رقت انگیز دُعا کے بعد بورڈنگ ہاؤس کا سنگ بنیا د رکھا اور اس طرح سلسلہ احمدیہ کے ہونہار طالب علموں کے لئے مناسب فضا میں یکسوئی اور اطمینان سے تعلیم حاصل کرنے اور سلسلہ کے لئے مفید وجود بننے کی داغ بیل ڈال دی۔یہ وسیع اور شاندار عمارت جو 200 طالب علموں کی رہائش کے لئے کافی تھی۔اس میں پانی مہیا کرنے کے لئے واٹر پمپ لگایا گیا اور بڑے بڑے ٹینک بنائے گئے جن میں ہر وقت پانی موجود رہے۔سپرنٹنڈنٹ بورڈنگ کے لئے اسی عمارت کے اوپر ایک بالا خانہ بنایا گیا جس سے عمارت کی شان اور عظمت دو چند ہو گئی۔نیز کھلی جگہ میں ہونے کی وجہ سے رہائش کے لئے بہترین جگہ تیار ہوگئی ۱۷- تعلیم الاسلام ہائی سکول :- مسجد نور اور بورڈنگ ہاؤس کے ساتھ ہی تعلیم الاسلام ہائی سکول کی ایک شاندار عمارت حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں تیار ہوئی کیونکہ شہر کے اندر ایسی کوئی (124)