قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 74 of 365

قسمت کے ثمار — Page 74

اسلامی نظام جسے خلافت کا نام دیا جاتا ہے ایک ایسا نظام ہے جسے انسانی نظاموں کے مقابل پر خدائی تائید و نصرت کا غیر معمولی امتیاز حاصل ہے اور اس میں ہر زمانہ کی ضرورت اور حالات کے تقاضوں سے کلی طور پر عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔یہ نظام جس کی بنیاد قرآن مجید میں پیش کی گئی اور جس کا عملی نفاذ اور طریق کار خیر القرون میں متعین ہو گیا انسانوں کے بنائے ہوئے طریقوں اور ازموں کے مقابل پر ہمیشہ ہی ایک کامیاب چیلنج کے طور پر موجودرہا۔آنحضرت سلام اینم کی پیشگوئی کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اس بابرکت نظام کا پھر سے ڈول ڈالا گیا۔حضرت مولانا نور الدین خلیفتہ المسیح الاول خان نے اپنی قرآنی بصیرت وروشنی سے اس نظام کی برکات کو واضح کیا۔حضرت مصلح موعود بنی ان کو بھی اس مقدس کام کو آگے بڑھانے میں نمایاں خدمات بجالانے کی توفیق حاصل ہوئی۔آپ کے کار ہائے نمایاں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں جن پر کتابیں لکھی جاچکی ہیں اور آئندہ بھی لکھی جاتی رہیں گی۔ایک بہت بڑا کارنامہ استحکام خلافت کا آپ کے ہاتھوں سر انجام پایا۔آپ نے ایسے واضح رہنما اصول مقرر فرمائے جن کی برکت سے جماعت میں اختلافات کا سد باب ہو گیا اور خلافت ثالثہ ، خلافت رابعہ اور خلافت خامسہ کے انتخاب میں ان اصولوں پر عمل پیرا ہوکر اتحاد و اتفاق اور خدائی تائید کے ایسے ایمان افروز نظارے نظر آئے جن سے اسلام واحمدیت کی سچائی اور آنحضرت سلاما لی ہیم کی عظمت و شان نمایاں ہوئی اور یقین ہے کہ خلافت کی برکات کا یہ سلسلہ جماعت میں ہمیشہ جاری رہے گا۔حضرت مصلح موعودؓ نے سالانہ اجتماع خدام پر ایک تاریخی عہد لیا جس کے الفاظ یہ ہیں : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ هم اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ہم اسلام اور احمدیت کی اشاعت اور محمد رسول اللہ صلی ایم کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچانے کیلئے اپنی زندگیوں کے آخری لمحات تک کوشش کرتے چلے جائیں گے اور اس مقدس فرض کی تکمیل کیلئے ہمیشہ " 74