قسمت کے ثمار — Page 40
کیلئے اپنا تن من دھن قربان کر رہے ہیں اور اپنی جان مال وقت اور عزت کی قربانیاں پیش کرتے ہوئے مسیح پاک علیہ السلام کے دل کی اس بے قرار تمنا اور شدید خواہش کو پورا کرنے اور اس گھڑی کو قریب تر لانے میں پورے دل و جان سے مصروف ہیں کہ تمام یورپ مسلمان ہو جائے۔یہ جہاد یقیناً بہت ہی عظیم اور بہت ہی بابرکت ہے۔یہ کام سخت محنت، جانفشانی اور متضر عانہ دعاؤں کا متقاضی تو ہے لیکن ناممکن ہر گز نہیں۔خدا کی نصرت کی ہواؤں کے رُخ پر قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔اللہ کے فرشتے خود آسمان سے اتر کر مستعد دلوں کو قبول اسلام کیلئے تیار کر رہے ہیں۔آسماں پر دعوت حق کیلئے اک جوش ہے ہو رہا ہے نیک طبعوں پر فرشتوں کا اتار آ رہا ہے اس طرف احرار یورپ کا مزاج نبض پھر چلنے لگی مردوں کی ناگہ زندہ وار کہتے ہیں تثلیث کو اب اہل دانش الوداع پھر ہوئے ہیں چشمہ توحید پر از جاں نثار پس اسے مسیح محمدی کے وفادار خدام! آؤ ہم اپنے محبوب آقا وامام حضرت خلیفہ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ کی زیر قیادت اس وقت موعود کو قریب تر لانے کیلئے اپنی کوششوں کو انتہا تک پہنچا دیں تاہم اپنی زندگیوں میں حضور علیہ السلام کی اس خواہش کو پورا ہوتا ہوا دیکھیں اور خدا کے فرشتے ہم ادنی غلامان مسیح محمدی کی طرف سے حضرت مسیح علیہ السلام کی روح تک یہ خوشخبری پہنچا ئیں کہ آپ کے دل کی تمنا پوری ہوئی اور یورپ مسلمان ہو گیا۔خدا کرے کہ وہ وقت جلد آئے اور غلبہ اسلام کی اس آسمانی مہم میں ہمارا بھی مقبول حصہ ہو۔آمین۔(الفضل انٹرنیشنل5اپریل1996) 40