قسمت کے ثمار — Page 262
ہیں۔یہاں صرف ایک ایسا واقعہ پیش کیا جاتا ہے:۔۔۔اختتام تعمیرات کے قریب (حضرت صاحب) نے آٹھ دس انجینئر ز کو کھانے پر مدعوفر ما یا بعد ادا ئیگی نماز ہم سب ( آپ ) کے ہمراہ ( آپ) کے ڈائننگ روم میں جارہے تھے۔میں (حضرت صاحب) کے بالکل ساتھ ساتھ پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ٹیبل کے سرے پر ( آپ) تشریف فرما ہو گئے۔۔۔کھانا کھاتے ہوئے میں نے اپنی بائیں جانب ایک شخص سے ٹشو پیپر طلب کیا۔جب واپس اپنی پلیٹ کو دیکھا تو اس میں ایک مرغی کی ٹانگ جو نصف کھائی ہوئی تھی، پڑی ہوئی دیکھی۔آپ میری طرف دیکھ رہے تھے۔جب آنکھیں چار ہوئیں تو میں نے وہ مرغی کی ٹانگ ٹشو پیپر میں لپیٹ کر جیب میں رکھ لی۔آپ سمجھ گئے کہ یہ اس تبرک کو اپنے گھر لے جا کر اہل خانہ میں تقسیم کر کے کھائے گا اور ( آپ ) کا یہ خیال ٹھیک تھا۔۔۔۔کھانے کے بعد فوٹو لئے گئے۔حضرت صاحب تخت پوش پر بیٹھ گئے اور ہم لوگوں نے بڑی اودھم مچائی۔بچوں کی طرح کبھی ایک کبھی دوسرا حضرت صاحب کے بائیں یا دائیں بیٹھتا اور کافی دیر تک (حضرت صاحب) نے اپنے آپ کو ہمارے حوالے کر رکھا۔۔جماعت اور خدام سے حسن سلوک و شفقت کا ایک بہت ہی پیارا واقعہ بیان کرتے ہوئے محترم سردار صاحب لکھتے ہیں : ایک کمرہ کی دیوار میں سوراخ کرنے کو محمد عنایت ٹھیکیدار مصروف کار تھا اور ٹھکا ٹھیک ہتھوڑا مار رہا تھا۔دوسری طرف اندرون خانہ میں اس کے دھماکوں سے انگیٹھی پر پڑا ہوا ایک نادر اور قیمتی جرمنی سے لایا ہوا پھولدان گر کر ٹوٹ گیا۔نواب منصورہ بیگم صاحبہ نے (حضرت صاحب) سے شکایت کی۔عنایت کو بلا یا گیا اورٹوٹا ہوا پھولدان دکھا کر اس کے مزدوروں کی بے احتیاطی پر توجہ دلائی جس پر وہ گردن جھکائے چند 262