قسمت کے ثمار — Page 164
محبوب خدا اصل سی ایم کی محبت آنحضرت سالا السلام کی ذات اقدس و بابرکات پر مخالفین اسلام کے بے جاحملوں پر طبعی طور پر مسلمانوں میں غم وغصہ کی لہر دوڑ جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں مسلمانوں نے ایسی مخالفانہ کتابوں کو ضبط کروانے کے لئے حکومت کو احتجاجی مراسلے اور میمورنڈم بھجوائے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس طریق کو پسند نہ فرمایا کیونکہ مخالفانہ دلآزار باتوں پر حکومت سے یہ مطالبہ کرنا کہ ایسی کتاب کو ضبط کر لیا جاوے تو اس کا چنداں فائدہ نہیں ہوتا۔وہ کتاب تو چھپ کر لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہوتی ہے اور جوز ہر اس نے پھیلانا تھا وہ پھیلا چکی ہوتی ہے اب اگر وہ کتاب ضبط بھی کر لی جاوے تو اس کا کیا فائدہ!! دوسرے آپ نے فرمایا کہ حکومت سے کتاب کی ضبطی کی درخواست کا یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ ہم لوگ حضور ملی یہ تم پر لگائے جانے والے بے بنیاد الزامات کا جواب دینے کی صلاحیت و اہلیت نہیں رکھتے اور اپنی اس کمزوری کو چھپانے کے لئے چاہتے ہیں کہ حکومت اس کتاب کو ضبط کر لے۔حالانکہ حضور علیہ السلام کی ذات اقدس تو اخلاق فاضلہ کا بے مثال بہترین نمونہ تھی۔آپ کی ذات پر نا پاک الزام لگانے والا تو چاند پر تھوکنے کی کوشش کرتا ہے۔اس کی کوشش کی ناکامی یقینی ہے۔اور اس کا تھوکا ہوا اس کے اپنے ہی منہ پر پڑے گا۔حضور علیہ السلام نے جو طریق پسند فرما یا وہ یہ تھا کہ بے جا الزامات کا مدلل و موثر جواب دے کر ہم سیرت نبوی سلیم کی عظمت کا سکہ دنیا سے منوائیں۔164