قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 122 of 365

قسمت کے ثمار — Page 122

غفلتوں اور گناہوں کی طرف توجہ دے سکے۔اور اگر وہ تجسس اور نکتہ چینی سے لوگوں کے عیوب دریافت کرنے ، بیان کرنے یا بزعم خویش ان کی اصلاح کرنے میں لگا ہوا ہے تو وہ اپنی بنیادی ذمہ داری یعنی اپنی اصلاح کی کوشش سے غفلت کی غلطی کا ہی ارتکاب نہیں کر رہا بلکہ یہ اندیشہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس طرح وہ چغل خوری ، عیب جوئی اور ایسے ہی دوسرے گناہوں کا ارتکاب بھی کر رہا ہو۔اس نکتہ نظر سے دیکھا جاوے تو جہاد کی وسعت کا کسی قدر اندازہ ہوسکتا ہے۔اسی لئے بزرگوں کا یہ قول ہے کہ: جودم غافل سو دم کافر اس جہاد کی ذمہ داری سے دم بھر کے لئے غافل ہونا ممکن نہیں ہے۔اسی کیفیت کو بیان کرنے کے لئے کہا جاتا ہے۔دست با کار دل بایار۔دل ہر وقت خشیت و خوف خداوندی سے لبریز ہو تو باقی کام بھی بہتر ہوتے چلے جائیں گے۔غفلت اور سستی کی نحوست دور ہوگی اور نیکیوں کے لئے مستعدی و بشاشت پیدا ہوگی۔ہر صاحب اولاد، صاحب دل انسان اپنی اولاد کی بہتر تربیت کی خواہش رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کے بچے ہر لحاظ سے اس سے روپئے بھی بہتر زندگی بسر کریں مگر یہ جذبہ اور خواہش بھی مجاہدہ کا تقاضا کرتی ہے۔کیونکہ اگر اپنی اصلاح سے غافل ہو کر کوئی شخص اپنے بچوں کے سامنے کوئی سنتی اور غفلت کرتا ہے، کوئی غلطی یا گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ اپنے اس غلط عمل سے اپنے بچوں کے ذہن پر ایک غلط نقش چھوڑتا ہے جو صحیح تربیت کے رستہ میں ایک روک بن جائے گا۔بعض دفعہ انسان اپنی کوتاہ فہمی سے یہ خیال کرتا ہے کہ میری غلطیوں اور چالا کیوں کا میرے بچوں کو تو علم نہیں ہے اور یہ بھی کہ بچے تو چھوٹے اور نادان ہیں۔مگر یہ بہت بڑی نادانی ہے۔بچے بات کو خوب سمجھتے ہیں۔بات کو خوب یا درکھتے اور اس سے اثر قبول کرتے ہیں۔لہذا اپنی بہتری اور اصلاح کے لئے ہی نہیں اپنے بچوں اور اولاد یا اپنی قوم کے مستقبل کی بہتری کے لئے بھی ضروری ہے کہ 122