قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 109 of 365

قسمت کے ثمار — Page 109

حضرت مسیح موعود نے 1905ء میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی۔جیسے جید عالم کی وفات پر مدرسہ احمدیہ کی بنیا د رکھی تا کہ جماعت کا علمی معیار بلند سے بلند تر ہوتا چلا جاوے اور دینی خدمات سر انجام دینے والے خوش قسمت لوگ ہمیشہ جماعت کو میسر آتے چلے جاویں۔مدرسہ احمدیہ کے ابتدائی اسا تذہ اور جماعت کی علمی ترقی میں نمایاں خدمات سرانجام دینے والوں میں حضرت مولانا نورالدین بیایہ (خلیفہ مسیح الاول)، حضرت مولوی محمد احسن صاحب رضی اللہ عنہ، حضرت مولانا برہان الدین جہلمی صاحب نبی ﷺ اور حضرت حافظ روشن علی صاحب رضی اللہ عنہ کے اسماء گرامی بہت نمایاں ہیں۔اس طرح مدرسہ احمدیہ کے ابتدائی نگرانوں اورمنتظمین میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گرامی قدر فرزندوں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد اصلح الموعود ہی ہے اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نبی الیہ اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب نضمنی انھن کے نام بھی شامل ہیں جنہوں نے مختلف حیثیتوں میں جماعت کی علمی ترقی کے لئے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔خلافت ثانیہ میں مدرسہ احمدیہ اپنی ترقی یافتہ حالت میں جامعہ احمدیہ کے نام سے مشہور ہوا، جامعہ احمدیہ کے ابتدائی پرنسپل حضرت مولانا سید سرور شاہ صاحب بنی یہ مقرر ہوئے۔حضرت مولوی صاحب جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حق وصداقت کی حمایت کرنے والا شیر ببر 109