قسمت کے ثمار — Page 63
ہے۔مقصد یہ ہے کہ ہماری روزمرہ کی گفتگو میں اگر ایسے الفاظ برمحل اور با موقعہ استعمال ہوں تو ان سے ہماری بات زیادہ عمدہ اور موثر ہو جائے گی۔خدا تعالیٰ پر ایمان و تعلق میں زیادتی و بہتری ہوگی۔عربی زبان جو قرآن مجید کی زبان ہے۔جو خاتم النبین سالانا ایلم کی زبان ہے۔جو جنتیوں کی زبان ہے اس سے انس اور واقفیت میں اضافہ ہوگا۔یہ اور ایسے ہی اور فوائد کے ساتھ ساتھ یہ ایک بہت مکمل اور معنی خیز جواب ہوگا ان کو تاہ اندیش لوگوں کا جو اسلامی اصطلاحات پر اپنی اجارہ داری سمجھتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ اسلامی اصطلاحات اور شعائر سے فائدہ اٹھانے سے وہ جسے اور جب چاہیں روک سکتے ہیں۔حالانکہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کے آگے کوئی بند نہیں باندھ سکتا۔کیا ہی خوبصورت شعر ہے۔عادت ذکر بھی ڈالو کہ یہ ممکن ہی نہیں دل میں ہو عشق صنم لب پہ مگر نام نہ ہو الفضل انٹرنیشنل 20 فروری 2004) 63