قسمت کے ثمار — Page 360
عظمند کو بھی بے زبان بنا دیتی ہے۔مفلس و نادار اپنے ملک میں بھی غریب الوطن ہو جاتا ہے۔عاجزی مصیبت ہے جبکہ صبر شجاعت و بہادری ہے۔دنیا سے بے رغبتی بھی ایک دولت ہے اور تقویٰ و پر ہیزگاری ایک ڈھال ہے۔خدا تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنا سب سے اچھا طریق ہے۔علم بہترین میراث ہے اور خوش اطواری بہترین خوبصورت لباس کی طرح باعث زینت ہے اور صحیح انداز فکر بہترین آئینہ ہے۔عقل مند کا سینہ اس کے رازوں کا محافظ ہوتا ہے۔بشاشت محبت پیدا کرنے اور قائم رکھنے کا ذریعہ ہے۔تحمل و برداشت قبر کی طرح کمزوریوں کو ڈھانپ لیتی ہے اور صلح وصفائی بھی کمزور یوں کو ڈھانپنے ایک ذریعہ ہے۔خود پسند اور متکبر دوسروں کی نظر سے گر جاتا ہے اور صدقہ کئی بیماریوں کا کامیاب علاج ہے۔دنیا میں کئے جانے والے اعمال عقبی میں سامنے آجائیں گے۔جزاء سيئة سيئة مثلها (اچھے اعمال کا بدلہ اچھا اور برے اعمال کا بدلہ برا ہوگا۔) انسان کی حالت عجیب ہے وہ چربی سے دیکھتا ہے۔( آنکھ ) گوشت کے لوتھڑے سے بات کرتا ہے۔(زبان) اور ہڈی سے سنتا ہے (کان) اور ایک سوراخ سے سانس لیتا ہے (ناک) جب کسی کے پاس دنیا کے اموال کثرت ہوتی ہے تو دوسروں کی خوبیاں بھی اس کی طرف منسوب کر دی جاتی ہیں اور جب اموال کی کمی ہو جاتی ہے تو اس کی اپنی خوبیاں بھی اس سے چھن جاتی ہیں۔لوگوں سے اس طرح معاملہ کرو کہ وہ تمہاری زندگی کے مشتاق رہیں اور تمہارے مرنے پر تمہاری کمی محسوس کر کے رنجیدہ ہوں۔جب تم اپنے دشمن پر قابو پا لو تو اس قدرت و طاقت کے شکرانہ میں اس سے عفو کا معاملہ کرو۔360 (روزنامه الفضل ربوہ 18 پریل 1996