قسمت کے ثمار — Page 355
پاکستان سے مستقل رہائش ترک کر کے لندن میں آبسنے میں اولاً تو حضرت خلیفہ وقت کی کشش کا دخل تھا، دوسرے خاکسار کی اہلیہ کی بیماری تھی وہ عارضہ قلب اور جوڑوں کے درد کی وجہ سے علیل رہنے لگی تھی۔تکلیف بڑھ جاتی تو کافی مشکل ہوتی۔بچے یہ حالات دیکھ کر اصرار کر رہے تھے کہ لندن آجائیں ایک تو بچے امی کے پاس ہوں گے دوسرے علاج کی سہولتیں بھی ہیں۔خدمت دین کے مواقع اللہ تعالی اپنی جناب سے پیدا فرما دیتا ہے۔چنانچہ بادل نخواستہ دارالرحمت وسطی ربوہ کے مکان کو چھوڑ کر عازم لندن ہونا پڑا۔جماعتی خدمات ہمارا اوڑھنا بچھونا ہوتی ہیں۔لندن آکر خود بھی بعارضہ قلب بیمار ہوا ہسپتال میں رہنا پڑا لیکن اصل درد یہ تھا کی رمضان کی آمد آمد تھی اور مجھے اس میں خدمات کے مواقع نظر نہیں آرہے تھے۔قریباً نصف صدی سے قرآن وحدیث کے درس کی عادت تھی۔میں نے امیر صاحب کی خدمت میں وقف عارضی کی درخواست دے دی۔اللہ تعالی کا فضل ہوا اور آپ نے رمضان المبارک لیسٹر جماعت میں گزارنے کا ارشاد فرمایا۔لیسٹر کی جماعت بہت محبت کرنے والی جماعت ہے۔وہ بھی جیسے درسِ قرآن وحدیث کی بھو کی بیٹھی تھی ، خاکسار کو وہاں پڑھانے کا اور ان کو پڑھنے کا ایسا لطف آیا کی یہ ایک مہینہ تین سال پر ممتد ہو گیا۔وہاں گزارے ہوئے دن یا درہتے ہیں اور میں اس جماعت کے لئے دعا کرتا ہوں۔لیسٹر میں قیام کے دوران ہی حضور انور ایدہ الودود نے مجھے از راه شفقت و ذرہ نوازی ناظم دارالقضاء بورڈ مقررفرما دیا۔بفضلہ تعالی اس خدمت کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔اس دوران کچھ عرصے کے لئے الفضل انٹرنیشنل میں خدمت کی سعادت ملی۔مسجد فضل لندن میں درس حدیث کا موقع مل رہا ہے۔خدا یا تیرے فضلوں کو کروں یاد پچھلے پچاس سال پر نظر دوڑاتا ہوں تو کسی قدر خوشی مگر زیادہ ندامت کا احساس ہوتا ہے۔خدمت کے جو مواقع حاصل ہوئے ، خدا تعالیٰ کی ستاری کے جو جلوے دیکھے اس میں بہت زیادہ 355