قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 352 of 365

قسمت کے ثمار — Page 352

صاحب نے پانچ طالب علموں کو جن میں سے ایک یہ خاکسار بھی تھا۔مولانا خورشید احمد صاحب کے ساتھ جانے کا ارشاد فرمایا۔جامعہ سے تحریک جدید کے کوارٹرز کی طرف آتے ہوئے پتہ چلا کہ ہم مسند احمد بن حنبل کی تبویب کا کام شروع کرنے کے لئے جارہے ہیں۔گول بازار سے کچھ سٹیشنری خریدی گئی۔لائبریری سے کتب حاصل کیں۔اساتذہ میں سے مولا نا غلام باری سیف صاحب اور مکرم مولانا محمد احمد ثاقب صاحب کی خدمات بھی اس کام کے لئے حاصل کر لی گئیں۔بعض اور طالب علم اور اساتذہ بھی وقتا فوقتا شامل ہوتے رہے۔ہر بزرگ استاد کے ساتھ تین طالب علم ان کی رہنمائی میں تجویز کئے ہوئے عنوان یا باب کے تحت حدیث نقل کرنے کا کام کرتے۔خاکسار شیخ خورشید احمد شاد صاحب کے ساتھ تھا وہ اپنی صحت کی کمزوری کی وجہ سے بسا اوقات خاکسار کو ابواب تجویز کرنے کا کام بھی دے دیا کرتے تھے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے اس زمانہ میں اس کام کی خوب مشق ہوگئی اور خاکسار نقل احادیث کے ساتھ ساتھ اپنی ٹیم کے لئے ابواب کی تعیین کی خدمت بھی سرانجام دیتا رہا یہ کام ہنگامی بنیادوں پر شروع ہوا تھا مختلف ادوار میں مختلف طریقوں سے آگے چلتا رہا تجربہ کے ساتھ ساتھ کام کا طریق بھی بدلتا رہا۔کام کرنے والے بھی بدلتے رہے اسی دوران خاکسار کا تقرر بطور مربی کراچی میں ہو گیا۔کراچی گئے ابھی چند ہی روز ہوئے تھے کہ مرکز سے بذریعہ تار ( اس زمانہ میں تار ہی جلدی رابطے کا بہترین ذریعہ تھا اب ای میل اور فیکس کے سامنے یہ زمانہ قدیم کی بات لگتی ہے ) ربوہ واپس آنے کی ہدایت ملی واپسی پر پتہ چلا کہ حضرت مصلح موعود بنیشن نے تبویب کے کام کی رپورٹ پیش ہونے پر اس کی پیش رفت کے متعلق عدم اطمینان کا اظہار فرمایا توکسی بزرگ نے کام کی سستی یا تاخیر کی وجہ یہ بھی بیان کی کہ عبدالباسط جو ہمارے ساتھ کام کرتے تھے، انہیں کراچی بھجوادیا گیا ہے۔حضور نیلم کے ارشاد پر خاکسار واپس آکر پھر اسی خدمت کی انجام دہی میں مصروف ہو گیا۔اسی دوران ایک اور عجیب واقعہ ہوا۔خاکساراپنے ساتھیوں کے ساتھ احادیث کی نقل وغیرہ کا کام کر 352