قسمت کے ثمار — Page 313
دادا کی جگہ کو چھوڑ کر در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئے۔عجب نفسانفسی کا عالم تھا۔ہر شخص اپنی جان بچانے کی فکر میں تھا۔اس کڑی آزمائش اور امتحان کے وقت تین سو سے زائد احمدیوں کے قادیان میں رہنے اور اپنی تاریخی یادگاروں کی حفاظت و مقامات کی آبادی اور عبادات کے تسلسل کو قائم رکھنے کی خاطر رضا کارانہ طور پر قادیان میں رہنے کا مطالبہ ہوا تو دیوانوں نے عشق و محبت کا ایک نیا باب رقم کرتے ہوئے وہاں سے آنے کی بجائے وہاں رہنے پر اصرار کرنا شروع کر دیا اور اس خوش بختی و سعادت کو حاصل کرنے کیلئے قرعہ اندازی کرنی پڑی۔قربانی و ایثار کی یہ روح یقیناً ہمارے امام کے جذبہ قربانی کی ہی جھلک تھی۔انہی ابتدائی دنوں میں ایک جگہ احمدی مستورات کی حفاظت کیلئے ایک گلی کے اوپر ایک تختہ رکھ کر دو گھروں کو ملانے کیلئے ایک عارضی کمزور پل تیار کیا گیا۔اس عارضی پل پر چلنا اور گلی کو عبور کرنا ہی کارے دار تھا۔مگر دشمنوں کو اس انتظام کی خبر ہوگئی اور انہوں نے بطور خاص اس جگہ کو اپنی گولیوں کے نشانہ پر رکھ لیا۔گلی میں گر کر مر جانے کا خوف، دشمن کے مسلسل فائر کا خطرہ احمدی نوجوانوں کو ان کے فرض سے غافل نہ کر سکا اور عورتوں کی حفاظت کی مہم کو کامیابی سے سرانجام دینے والا ایک احمدی نوجوان ایک اندھے فائر کے نتیجہ میں اپنی جان کی بازی ہار گیا۔اس بار میں بھی یقینا اس کی دائمی جیت اور نجات مضمر تھی۔احمدی نوجوانوں کو قربانی کے لئے بلایا گیا تو وہ نوجوان جو پوری طرح فوجی تربیت سے آراستہ نہیں تھے، جن کا اسلحہ اور سامان حرب بھی ناقص و غیر تسلی بخش تھا، سب سے مشکل پہاڑی مقامات پر دن رات دشمن کے بموں اور فائرنگ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے جان قربان کرنے کیلئے سر ہتھیلی پر رکھ کر اس قومی جدوجہد میں شامل ہو گئے۔اس جذ بہ قربانی کی مثال کم ہی کہیں ملے گی کہ ایسے جان جو کھوں کے موقع پر جب حضرت خلیفہ المسیح الثانی بنی عنہ نے نو جوانوں کو اس قربانی میں شامل ہونے کیلئے بلایا اور وہ ابھی لبیک کہنے کا سوچ ہی رہے تھے کہ ایک احمدی بیوہ خاتون نے کھڑے ہوکر بآواز بلند احمد یوں کو غیرت دلائی کہ تمہارا امام تمہیں بلا رہا ہے اور تم سوچ میں پڑے ہو۔سب سے 313