قسمت کے ثمار — Page 263
منٹ کھڑا رہا۔جس سے نواب منصورہ بیگم صاحبہ کی دلجوئی ہوگئی کہ سزا مل گئی ہے۔اب دیکھئے کس طرح عنایت کی دلجوئی کی جاتی ہے۔(حضرت صاحب) کا ایک فرج مرمت ہوکر دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں دو روز سے ٹیسٹ ہو رہا تھا۔(آپ) نے دیکھا کہ برف جمی ہوئی ہے۔فرج ٹھیک طرح سے کام کر رہا ہے۔پاس ہی عنایت کھڑا تھا۔اس کو کہا: ” عنایتی یہ فرج تم اپنے گھر لے جاؤ اور بچوں کو ٹھنڈا پانی پلایا کرو وہ ہکا بکا رہ گیا اور سرتا پا ممنون ہو کر فرج اپنے گھر لے گیا۔اس جگہ یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ ایک شخص کو ذراسی سزا دی اور پھر اس کی کیسے احسن رنگ میں دلجوئی بھی کردی۔“ سردار بشیر احمد صاحب نے قبولیت دعا و تائید الہی کے متعدد واقعات اس کتاب میں لکھے ہیں مثلاً ایک دفعہ انہوں نے یہ افواہ سنی کہ انہیں ریٹا ئر کر دیا گیا ہے۔یہ سن کر وہ جماعت کے ایک بزرگ کے پاس دعا کی درخواست کرنے گئے۔اس بزرگ نے دعا کے بعد انہیں تسلی دلائی۔مگر بظاہر یوں لگا کہ ان کا کام نہیں ہو سکے گا مگر سردار صاحب نے دعا اور کوشش جاری رکھی۔وہ لکھتے ہیں: ”آپ نے ملاحظہ کیا ہوگا کہ میں نے افواہ سنی۔ڈاکٹر محمد شفیع صاحب نے دعا دی۔لاہور تین بار جانا پڑا ، دو ملاقاتوں کے بعد تیسری پر پتہ لگا کہ انڈر سیکرٹری میرے بزرگ احمدی دوست کا بیٹا ہے۔اس نے میرا کام کیا اور اس کے بعد ان کا تبادلہ ہو گیا اور مبارک باد دینے کو ہمارے محکمہ کا سب سے بڑا افسر خود حافظ آباد چل کر آیا۔یہ سب کچھ تصرف الہی کے ذریعہ ہوا اور یہ ساری عزت اللہ نے مجھے بخشی۔میں تو شکر ادا نہیں کر سکتا۔مکرم سردار صاحب کو متعدد جماعتی خدمات کا موقع بھی ملا۔جن کا مختصر تذکرہ درج ذیل ہے : 1 - محکمہ دار الانوار کا لے آؤٹ 263