قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 249 of 365

قسمت کے ثمار — Page 249

قبولیت حاصل ہوئی۔آپ نے اس زمانہ میں جبکہ سارا کام انسان کو اپنے ہاتھ سے کرنا پڑتا تھا اور لائبریریوں کی سہولت بھی آج کل کی طرح حاصل نہیں تھی۔کمپیوٹر اور ٹائپ رائیٹر تو دور کی بات ہے انہیں تو فونٹین پین کی سہولت بھی حاصل نہ تھی۔مختلف اور متنوع مضامین پر اتنا لکھا ہے کہ آپ طایفیملیہ کی سوانح لکھنے والوں نے یہ حیرت انگیز بات لکھی ہے کہ آپ کی تحریر اوسطاً60 صفحے روزانہ بنتی ہے۔حضرت مصلح موعود بنایا تو یہ خواہش اور توقع رکھتے ہیں کہ ہماری جماعت میں امام رازی جیسے عالم ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں۔قرآن مجید کی عظمت بیان کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ فرماتے ہیں: " قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جس میں ہر ایک قسم کے معارف اور اسرار موجود ہیں لیکن ان کے حاصل کرنے کے لئے قوت قدسیہ کی ضرورت ہے۔چنانچہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ( الواقعه: -80) ایسا ہی فصاحت و بلاغت میں ( اس کا مقابلہ ناممکن ہے )۔مثلاً سورۃ فاتحہ کی موجودہ ترتیب چھوڑ کر کوئی اور ترتیب استعمال کرو تو وہ مطالب عالیہ اور مقاصد عظمیٰ جو اس ترتیب میں موجود ہیں ممکن نہیں کہ کسی دوسری ترتیب میں بیان ہو سکیں۔خواہ قُلْ هُوَ اللهُ احد ہی کیوں نہ ہو۔جس قدر نرمی اور ملاطفت کی رعایت کو ملحوظ رکھ کر اس میں معارف و حقائق ہیں وہ کوئی دوسرا بیان نہ کر سکے گا۔یہ بھی فقط اعجاز قرآن ہی ہے۔“ وو ( ملفوظات جلد اول صفحه 53-52)۔۔۔یا درکھو کہ کتاب مجید کے بھیجنے اور آنحضرت مالی ایتم کی بعثت سے اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا ہے کہ تمام دنیا پر عظیم الشان رحمت کا نمونہ دکھاوے۔جیسے فرمایا وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِيْنَ (الانبياء: 108)۔اور ایسا ہی قرآن کریم کے بھیجنے کی غرض بتائی کہ هُدًى لِّلْمُتَّقِين (البقرة :3) - 249