قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 229 of 365

قسمت کے ثمار — Page 229

ضرور آئیں گے مگر آخری منزل کبھی نہیں آئے گی اور جس طرح ایک پہاڑ پر چڑھنے والا ہر چڑھائی کے بعد آگے ایک اور چڑھائی اور چوٹی کو دیکھتا ہے اسی طرح منازل سلوک پر گامزن مسافر بھی آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔اس فرق کے ساتھ کہ چڑھائی کا چڑھنے والا تو اپنی جسمانی طاقت خرچ کرنے کی وجہ سے اپنی تکان اور کوفت میں اضافہ کر رہا ہوتا ہے جبکہ راہ خدا کا مسافر ہر قدم پر شیطان کی ناکامی اور خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کے جلووں کو دیکھ کر اور زیادہ انشراح اور خوشی سے آگے بڑھتا اور ہر قدم پر اپنے حوصلوں اور صلاحیتوں میں اضافہ پاتا ہے۔اسی طرح پہاڑی پر چڑھنے والا تو بالآخر ایک آخری منزل پر پہنچ جاتا ہے مگر راہِ سلوک کا خوش قسمت مسافر جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے اس کی منزل زیادہ وسیع ، زیادہ بلند وارفع ہوتی چلی جاتی ہے۔هُدًى لِلْمُتَّقین میں بھی یہی پیغام ملتا ہے کہ عاشق صادق تقوی کے ابتدائی مقام سے قرآنی رہنمائی میں ترقی کرتے ہوئے جب تقویٰ کے بلند مقام پر فائز ہونے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو بھی اسے قرآنی رہنمائی میں اپنی مزید کامیابیوں اور رفعتوں کے نئے نئے افق نظر آتے ہیں اور اس کا یہ با برکت سفر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔عبادات کے مواقع ، عبادات میں شغف، عبادات کا ذوق وشوق اس غیر محدود ترقی کے سفر پر چلتے رہنا ممکن بناتا ہے۔اسی لئے حضور سالی ہم نے یہ دعا سکھائی ہے: اللهمَّ أَعِنِّى عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِک۔اے خدا میری مددفرما کہ میں تیرا ذکر وشکر کرسکوں اور عمدگی سے عبادت بجالانے کی توفیق پاؤں۔آمین۔حضرت مسیح موعود علی ام فرماتے ہیں : اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا کہ تو عبادت کرتا رہ جب تک کہ تجھے یقین کامل کا مرتبہ حاصل نہ ہو اور تمام حجاب اور ظلماتی پر دے دور ہو کر یہ سمجھ میں نہ آ جاوے کہ اب میں وہ نہیں ہوں جو پہلے تھا۔بلکہ اب تو نیا ملک نئی زمین ، نیا آسمان ہے اور میں بھی کوئی نئی مخلوق ہوں۔یہ حیات ثانی وہی ہے جس کو صوفی بقاء 229