قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 228 of 365

قسمت کے ثمار — Page 228

روح ہو، اس کا نام عبادت ہے۔چنانچہ اگر یہ درستی اور صفائی آئینہ کی کی جاوے تو اس میں شکل نظر آجاتی ہے اور اگر زمین کی کی جاوے تو اس میں انواع واقسام کے پھل پیدا ہو جاتے ہیں۔پس انسان جو عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔اگر دل صاف کرے اور اس میں کسی قسم کی کجی اور ناہمواری کنکر ، پتھر نہ رہنے دے تو اس میں خدا نظر آئے گا۔(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 347) مذکورہ بالا تعریف ایک ایسے عارف باللہ کی بیان فرمودہ ہے جس نے اسلام اور بانی اسلام ال السلام کے منشاء مبارک کو سمجھتے ہوئے صراط مستقیم پر گامزن رہنے کے تجربات پوری محبت وعقیدت اور پوری توجہ سے سر انجام دئے۔اس لئے آپ کے فرمودات محض لفظی بیان نہیں بلکہ راہ سلوک کی وہ زندہ برکات ہیں جو آپ نے حاصل کیں اور جن کی طرف دنیا کو اپنے عمل اور نمونہ سے دعوت دی۔اس تعریف کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ وسوسہ اور خیال خود بخود دُور ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہماری عبادت کی کیا ضرورت ہے۔کیونکہ عبادت تو سراسر خود عابد کی بہتری ، ترقی اور اس کی مخفی صلاحیتوں کو بیدار اور ظاہر کرنے کا نام ہے۔جیسے جیسے ایک عابد عبادت میں ترقی کرتا جائے گا ، اپنی خامیوں اور کوتاہیوں سے آگاہ ہوتے ہوئے یا راہ سلوک میں پیش آنے والی مشکلات سے آگاہ ہوتے ہوئے ان مشکلات پر قابو پانے اور اپنی خامیوں اور کوتاہیوں کا ازالہ کرنے سے قدم بہ قدم بہتری کی طرف بڑھتا چلا جائے گا۔ایسا خوش قسمت انسان جب کسی شیطانی وسوسہ کو نفرت کی نظر سے دیکھتے ہوئے اس سے بچنے میں کامیاب ہو جاتا اور شیطانی وسو سے اور بدی کی بجائے اس کے مقابل پر کسی نیکی کو حاصل کرتا ہے تو اس نے صرف خدا کے قرب میں ایک قدم ترقی ہی نہیں کی بلکہ اس نے اپنی بہتری کے لئے ایک اور قدم اُٹھا لیا ہے جو اسے حوصلہ بخشتا ہے کہ وہ اسی طریق پر آگے بڑھتے ہوئے خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت سے اور کامیابی سے حصہ لے۔شیطان کو اس کی تمام کوششوں اور وسوسہ اندازیوں میں نا کام کرے۔اور یہ سلسلہ ایسا ہے جس میں مختلف مقامات تو 228