قسمت کے ثمار — Page 218
عالم اسلام میں کوئی علمی انقلاب بر پا کر سکا۔امت مسلمہ آج بھی منتشر و پراگندہ حال ہے اور ان کا علمی مرتبہ آج بھی دنیا میں سب سے کمتر ہے۔“ اپنے اس جائزہ کو آگے بڑھاتے ہوئے اور خاص طور پر برصغیر میں ہونے والی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ تحریر کرتے ہیں: غلبہ اسلام اور اسلامی نظام کے قیام کے لئے کوششیں کتنی ہوئیں ان کا اندازہ برصغیر پاک و ہند کو دیکھ کر ہی لگایا جاسکتا ہے۔جماعت اسلامی کا قیام اسی غرض کے لئے تھا کہ اسلامی نظام کا قیام عمل میں لایا جائے۔یہ ایک زبردست تحریک تھی جس نے نہ صرف عامتہ المسلمین میں امید کی شمع روشن کر دی بلکہ اغیار کے کا شانوں پر بھی برق بن کر گری۔جب مولانا مودودی۔۔۔نے یہ نعرہ دیا تھا کہ قرآن وسنت کی دعوت لے کر اٹھو اور دنیا پر چھا جاؤ۔اور یہ کہ وہ وقت ضرور آئے گا جب اشتراکیت کو ماسکو میں سامراجیت کو واشنگٹن میں اور الحاد کو پیرس میں پناہ نہیں ملے گی تو دشمنوں کی صفوں میں کھلبلی مچ گئی تھی۔معاشرے کو ایک جذبہ عطا ہوا تھا اور پھر یہ کہ یہ ایک انتہائی منظم کوشش تھی جس کی مثال عام نہیں ملتی۔لیکن کیا ہوا؟ نہ صرف یہ کہ پاکستان میں اسلامی نظام کا قیام عمل میں نہ آسکا بلکہ خود جماعت اسلامی پر بڑھاپا طاری ہو گیا۔جماعت اسلامی تنہا ہی نہیں جمعیت علمائے اسلام اور جمعیت علماء پاکستان بھی پہلو بہ پہلو کوشاں تھیں۔سب کی کوششوں کا انجام ایک جیسا ہوا۔اسلامی نظام کا منہ دیکھنا آج بھی قوم کو نصیب نہیں۔یہ وہ جماعتیں ہیں جنہوں نے اصلاح نظام کے ذریعہ غلبہ اسلام کا راستہ اختیار کیا لیکن دیگر مکاتب فکر نے اس طریق کار کو صحیح نہ سمجھتے ہوئے دوسرے طریقے اختیار کئے جن میں تبلیغ دین اور جہاد کا سلسلہ ترجیح اول تھی۔ان دونوں مکاتب فکر نے اپنی انتہائی کوشش کی اور کر بھی رہے ہیں لیکن غلبہ اسلام اور اقامت دین کی 218