قسمت کے ثمار — Page 217
ہیں۔اور دوسرے یہ کہ مغرب جس عالمی پیمانے کے اقدام کر رہا ہے اس کا توڑ کر لینا مسلمان اقلیتیں تو در کنار مسلمان ممالک کے بس کی بات بھی نہیں ہے۔ان کے سیاسی ، اقتصادی تعلیمی ، فوجی اور ثقافتی حملوں کی یلغار میڈیا ، اقوام متحدہ اور ان کے علاقائی اتحادوں کی صورت میں وہ غارت گر اثرات ڈال رہے ہیں کہ امت مسلمہ بحیثیت مجموعی اس سیلاب میں اس طرح بہتی جارہی ہے جس طرح کوئی تنکا پانی کے ریلے میں بہتا جا رہا ہو۔اس مایوسی اور پریشانی پیدا کرنے والی صورت حال کے مقابل پر غلبہ اسلام کے سلسلہ میں کی جانے والی مختلف تحریکات اور کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : غلبہ اسلام کی کوششوں میں ہمارے ہاں کبھی خلا واقع نہیں ہوا۔ان میں ائمہ اربع کا کردار، حضرت امام ابن تیمیہ، امام غزالی ، ابن رشد ، کندی ، فارابی ، ابن سینا کے علاوہ سمرقند و بخارا میں حضرت امام بخاری اور حضرت امام مسلم وغیرہ اور ان کے دیگر ہم عصر رفقاء ، برصغیر میں حضرت شاہ ولی اللہ ، حضرت اسماعیل شہید ایملی اورسید احمد شہید داریم یہ ایسے نام ہیں جو اپنی ذات میں ایک انجمن اور تحریک تھے۔حضرت مجدد الف ثانی دایملی، سرسید احمد خان ، علامہ اقبال اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ،سید سلیمان ندوی اور اہل دیوبند اور بریلوی نے کون سی کسر اٹھا رکھی کہ کوتا ہی جدوجہد کا افسوس کیا جائے ؟ حضرت جمال الدین افغانی، عمر بھر اتحاد امت کے لئے کوشاں رہے لیکن ناکام رہے۔مفتی محمد عبدہ اور ان کے شاگرد علامہ رشید رضا اپنے نقطہ نظر کے مطابق کہ غلبہ امت کا راز علمی ترقی میں ہے جمال الدین افغانی سے اختلاف کرتے رہے۔یہ علمی اختلاف تھا جو ایک معمول کی بات ہے لیکن کہنے کی بات یہ ہے کہ نہ جمال الدین افغانی اتحاد امت کو قائم کرنے میں کامیاب ہوئے اور نہ دوسرا مکتبہ فکر 217