قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 189 of 365

قسمت کے ثمار — Page 189

اور معارف بیان کرنے کے ساتھ ساتھ کھیلوں اور جسمانی صحت کے متعلق آپ کے ارشادات مسجد مبارک کی عقبی سیڑھیوں سے جو چھتی ہوئی گلی میں اترتی تھیں آپ کا مہمات دینیہ کی سرانجام دہی کے لئے آنا جانا۔پٹک کے لئے نہر پر یا در یائے بیاس پر جانا،گرمیوں میں ڈلہوزی یا کشمیر جانا، وقار عمل کے لئے اور مختلف خوشی وفی کے مواقع پر اپنے خدام کے ساتھ برابر کی شرکت۔۔۔یہ کیسی پیاری یادیں یا قیمتی سرمایہ ہے اور قادیان جا کر یہ فلم ذہن میں برابر گھومتی رہتی اور کسی اور ہی عالم میں پہنچا دیتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا: کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیاں کدھر اسی طرح آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ: قادیاں بھی تھی نہاں ایسی کہ گویا زیر غار مگر اس گمنامی اور وہاں پہنچنے کی دشواریوں کے باوجود یہ بھی فرمایا تھا کہ میرے خدا نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ لوگ دور دراز سے ہمشکل رستوں پر سے گزرتے ہوئے بھی یہاں ہجوم در ہجوم آیا کریں گے۔یہ وعدہ جو یقینا اس ابتدائی زمانے میں بہت ہی عجیب بلکہ ناممکن سا لگتا ہوگا آج ہم اپنی آنکھوں سے بڑی شان سے پورا ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔پاکستان اور انڈیا کے مخصوص حالات کی وجہ سے انڈیا کا ویزا حاصل کرنا ہمیشہ ہی جوئے شیر لانے کے مترادف رہا ہے۔یہاں لندن سے ویزا حاصل کرتے ہوئے بھی اسلام آباد پاکستان کی یاد تازہ ہوتی رہی اور اگر میرا بیٹا تین دن صبح سے رات تک انڈیا کے ویزا آفس میں دھرنانہ دیتا اور قادیان سے جلسہ میں شمولیت کے لئے دعوت نامہ نہ آتا تو ویزا کا حصول قریباً ناممکن تھا۔ویزا ملنے کے بعد ہم خوشی خوشی ربوہ چلے گئے اب تو خدا نے چاہا تو بآسانی قادیان پہنچ جائیں گے۔مگر ربوہ جا کر پتہ چلا کہ ابھی ایک اور مشکل مرحلہ باقی ہے اور وہ یہ کہ اگر ویزا میں اٹاری کا لفظ لکھا ہوا 189