قسمت کے ثمار — Page 181
خوب علم ہوتا ہے۔ایسے تبصرے ان کی مجلس کو اور گرما دیتے ہیں اور وہ چغل خوری، غیبت استہزاء بلکہ افتراء میں اور تیز ہوتے چلے جاتے ہیں۔بعض لوگ تو اپنے آپ کو خدائی فوجدار سمجھنے لگ جاتے ہیں۔پہلے کسی کی برائی کو معلوم کرنا اور پھر اس کو ہر وقت اس رنگ میں نصیحت کرنا کہ جو نصیحت سے زیادہ فضیحت اور طعن و تشنیع کا رنگ لئے ہوئے ہو۔ان نصائح میں ہمدردی و غم خواری کا دور دور تک کوئی دخل نہیں ہوتا۔اس کے برعکس ہم چو ما دیگرے نیست‘ کا رنگ ضرور ابھرتا ہے۔یہاں یہ بات کہنے کی تو چنداں ضرورت نہیں کہ ایسی نصیحت کبھی بھی مفید اور کارآمد ثابت نہیں ہوتی۔تمام نیکیاں، ہر قسم کی خوبیاں، پیاری باتیں اور اچھی حرکتیں دل کی نرمی سے نکلتی ہیں۔دل کی سختی کے نتیجہ میں ہمدردی، پیار، محبت ، افہام و تفہیم ، خوش خلقی ، نرم روی ، کشادہ پیشانی ایسی تمام خوبیاں عنقا ہو جائیں گی۔ایسی کھیتی سے کسی اچھی فصل کی تو سرے سے امید ہی نہیں کی جاسکتی۔البتہ تیز نوکیلے لمبے زہریلے کانٹے ضرور پیدا ہوں گے۔دل کی سختی کی نحوست سے عبادات کی رغبت اور عبادات میں بشاشت بھی کم ہوتی چلی جائے گی۔حقوق العباد کی ادائیگی میں بھی کمی واقع ہوتی چلی جائے گی اور نتیجہ یہ نکلے گا کہ ایسا شخص خائب و خاسر، نا کام و نامراد ہوکر بدبختی و بدنصیبی کی تصویر بن جائے گا۔نرم خوئی کو رحمت الہی قرار دیتے ہوئے قرآن شریف فرماتا ہے: فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَا نُفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ (سورۃ آل عمران آیت ۱۶) یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ آپ سال یا پی ایم ان کے لئے نرم خو ہیں۔اگر آپ ترش رو اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ ادھر اُدھر منتشر ہو جاتے۔دنیا کی محبت ، خدا تعالیٰ سے دوری اور نیکیوں سے محرومی کا باعث بن جاتی ہے۔حضور سالی ایلام نے دنیاوی زندگی سے استفادہ کی نہایت پر حکمت مثال دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ دنیا میں انسان ایک مسافر کی طرح ہے۔مسافر اپنی سواری یا رستہ کی بجائے اپنی منزل کو اہمیت دیتا ہے اور سواری یا 181