قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 178 of 365

قسمت کے ثمار — Page 178

سیاسی،اقتصادی ، معاشرتی ہر لحاظ سے ایسے مقام پر فائز تھے کہ بظاہر کوئی مقابلہ ہی نہیں تھا۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے اثر و رسوخ کو کام میں لاتے ہوئے حاکم وقت کی تائید حاصل کر لی اور حضرت عیسی علیہ السلام کی حالت کا تو اس بات سے بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ بڑی بے بسی سے کہتے ہیں کہ جنگل کی لومڑیوں کے لئے تو ان کی پناہ گاہیں موجود ہیں مگر ابن آدم ( حضرت عیسی علیہ السلام ) کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔اسی طرح بائبل کے مطابق آپ کو یہ بھی کہنا پڑا کہ اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔اتنے شدید مخالف حالات کے باوجود وہ حضرت عیسی علی نام کو پھانسی دے کر مارنے میں ناکام ہو گئے اور حضرت عیسیٰ علیہ نے ہجرت اختیار کی اور اپنا مقصد حاصل کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تو یہ مقابلہ اور بھی شدت اختیار کر گیا۔آپ نے مسلسل تیرہ سال شدید مخالفت کا سامنا کیا۔آپ کے مصائب و مشکلات اس قدر بڑھ گئے کہ آپ کو ایسی حالت میں ہجرت کے امتحان سے گزرنا پڑا کہ آ سالی یا یہ نیم کے مخالف آپ صلی اے ای ایم کے گھر کا محاصرہ کئے ہوئے بھیڑیوں کی طرح آپ سائینی ایلام کے خون کے پیاسے ہورہے تھے۔حق و باطل کی اس آویزش میں یہ حیرت انگیز امر بھی نظر آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والوں نے کبھی بھی اپنے موقف میں کسی لچک کا مظاہر نہیں کیا بلکہ وہ اپنے مخالفوں کو یہی جتلاتے رہے کہ حق ہمارے ساتھ ہے اور كَتَبَ اللهُ لا غُلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ ( المجادلہ: 22) کے غیر متبدل اصول کے مطابق کامیابی اور فتح ہمارا مقدر بنے گی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس کیفیت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: وہ عجیب قادر ہے اور اس کی قدرتیں عجیب ہیں۔ایک طرف نادان مخالفوں کو اپنے دوستوں پر کتوں کی طرح مسلط کر دیتا ہے اور ایک طرف فرشتوں کو حکم کرتا ہے کہ ان کی خدمت کریں۔“ (روحانی خزائن جلد 19 کشتی نوح ص 3) 178