قسمت کے ثمار — Page 139
اور بے کسی کے عالم رات کے وقت چھپتے چھپاتے ہجرت کر کے جانے والا اپنے ہاتھوں سے خانہ۔کعبہ میں رکھے ہوئے بتوں کو توڑ رہا تھا اور یہ اعلان کر رہا تھا کہ : جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا (بنی اسرائیل: 82) ایسی عظیم الشان غیر معمولی کامیابی حاصل کرنے کے باور حضور سلایا کہ تم نے کبھی بھی ایسا کوئی اعلان نہ فرمایا جن کا اوپر ذکر ہو چکا ہے۔آپ صلی سی ایم کا اقرار و اعلان تو یہ تھا کہ قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ (الكهف : 111) میں تو تمہاری طرح ایک انسان ہوں اور یا یہ کہ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ (هود: 32) مجھے غیب کا کوئی علم نہیں ہے۔عالم الغیوب اور ہر قسم کی قدرتوں کا مالک میرا خدا ہے۔حضور صلی ہی ہم اگر چاہتے تو بتوں کی عبادت کرنے والی وہمی قوم سے اپنی عظمت وشان منوا لیتے مگر یہاں تو کمال انکساری اور عاجزی کے ساتھ یہ بتایا جا رہا ہے کہ میں تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں ، میری ماں روٹی کے خشک ٹکڑوں کو کھا کر گزارہ کرتی تھی۔آپ نے ہمیشہ دعا کا طریق اختیار کیا بلکہ خدائی تائید و نصرت اور کامیابی کے وعدوں کے باوجود آپ سیلی ایمن ہمیشہ کمال تذلل و انکساری اور رقت وخشیت سے دعا کرتے اور قبولیت دعا کے نشانات اور معجزات کو کبھی بھی اپنی طرف منسوب نہ فرمایا۔حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دعا کی حقیقت کے متعلق اپنے حالیہ ایمان افروز خطبہ جمعہ میں اس مسئلہ کی مکمل وضاحت فرمائی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”خدا تعالیٰ غنی ، بے نیاز ہے۔اس پر کسی کی حکومت نہیں ہے۔ایک شخص اگر عاجزی اور فروتنی سے اس کے حضور نہیں آتا ، وہ اس کی کیا پرواہ کر سکتا ہے۔دیکھو اگر ایک سائل کسی کے پاس آجاوے اور اپنا عجز اور غربت ظاہر کرے تو ضرور ہے کہ اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ سلوک ہو۔لیکن ایک شخص گھوڑی پر سوار ہو کر آوے اور سوال 139