قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 88 of 365

قسمت کے ثمار — Page 88

کوئی عیاشی نہیں ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ کل رات میں پڑھائی کے وقت سو گیا اس پر مجھے خیال آیا مجھے اپنی غلطی اور ستی کی سزاملنی چاہئے تو میں نے سوچ سوچ کر یہی سمجھا کہ مجھے اس سے زیادہ کسی بات سے تکلیف نہیں پہنچے گی میں اپنے اوپر کچھ خرچ کروں چنانچہ میں نے سزا کے طور پر دودھ جلیبی خریدنے پر زائد خرچ کر کے اپنے آپ کو سزا دی ہے۔“ بخل کی ایک یہ عجیب صورت بھی بعض دفعہ دیکھنے کوملتی ہے مثلاً الف کوب سے کوئی فائدہ حاصل ہوتا ہے تو ج اس پر کڑھتا اور تکلیف محسوس کرتا ہے۔حالانکہ ج کا نہ تو کچھ خرچ ہوتا ہے نہ ہی الف کے فائدے سے اسے کوئی نقصان پہنچ رہا ہوتا ہے۔تاہم صرف یہ سوچ کر کہ الف کو فائدہ پہنچ رہا ہے تو کیوں پہنچ رہا ہے، ج کو تکلیف ہوتی ہے۔بخل کی یہ صورت حسد سے پھوٹتی ہے اور اس طرح یہ معمولی بدی یا گناہ کی بات نہیں رہتی بلکہ آنحضرت سالانا اسلم کے ارشاد کے مطابق ایسی بدی بن جاتی ہے جو نیکیوں کو اس طرح جلا کر بھسم کر دیتی ہے جس طرح آگ ایندھن کو۔قرآن مجید مومن کی یہ شان بتاتا ہے کہ وہ بخل اور فضول خرچی سے بچتے ہوئے درمیانی راستہ یعنی اعتدال و توازن پر قائم ہوتا ہے۔قرآن مجید بخل سے اپنا دامن بچالینے والوں کو فلاح و کامیابی کی خوشخبری دیتا ہے اور یہ بھی فرماتا ہے کہ مومن تو وہ ہے جواپنی تنگ دستی کے باوجود دوسروں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے کوشاں رہتا ہے۔حد سے بڑھی ہوئی محبت کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی قومی خرابیوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود بنی اللہ فرماتے ہیں: مال کی محبت حلال و حرام کا امتیاز اڑا کر انسان کو ظلم کی طرف مائل کر دیتی ہے۔جس شخص کے دل میں انتہائی طور پر مال کی محبت ہوگی وہ حلال اور حرام میں کوئی امتیاز نہیں کرے گا۔حلال ذریعہ سے مال آئے گا تو اسے بھی لے لے گا۔حرام ذریعہ 88