قسمت کے ثمار — Page 70
دو میں نہ آتا تو کوئی اور ہی آیا ہوتا آنحضرت سلام اینم کی قیادت ونگرانی میں اسلام کے قافلہ نے سفر شروع کیا۔ابتدائی مشکلات نے قدم قدم پر روک پیدا کی مگر آنحضرت صلی ایتم نے خدائی وعدوں اور تائید و نصرت کی طاقت پر رستہ میں آنے والی کسی روک اور مخالفت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنا مقدس سفر جاری رکھا۔ابتداء میں نماز کی ادائیگی اور تبلیغ بھی علی الاعلان نہ ہو سکتی تھی تاہم آہستہ آہستہ سعید روحیں شرک و ظلم کے اندھیروں سے نکل کر تو حید ورسالت کی روشنی سے منور ہونے لگیں اور حضور سالا اینم کی زندگی میں یہ عظیم الشان انقلاب برپا ہو چکا تھا کہ چھپ کر عبادات بجالانے کی بجائے حضور اکرم سلام ایم ایک فاتح کی حیثیت سے حرم شریف میں داخل ہوئے اور مسلمانوں پر بہیمانہ مظالم کرنے والے مجرموں کی طرح لرزاں و ترساں آپ کے سامنے پیش ہوئے اور آپ نے تاریخ عالم میں عفو و رحم کی ایک عظیم مثال پیش فرماتے ہوئے ان سب کو معاف کر دیا۔حضور صلی یا تم نے جو پیشگوئیاں اور وعدے فرمائے تھے وہ حضور صلی اینم کی زندگی اور ذات مبارک سے ہی تعلق نہیں رکھتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ سے علم غیب پا کر آپ نے آخری زمانے کی علامات بھی تفصیل سے بیان فرمائی تھیں اور آخری زمانے کے متعلق بیان کرتے ہوئے آپ نے بتایا کہ آخری زمانے میں اشاعت اور رسل و رسائل کے ذرائع بہت پھیل جائیں گے ، زمین اپنے خزانے باہر نکال دے گی، جنگوں اور خونریزی کی کثرت ہوگی ، لوگ بلند و بالا عمارتیں بنانے لگیں گے، عورتیں مردوں اور مرد عورتوں کی طرح نظر آنے لگیں گے ، دولت زیادہ ہو جائے گی مگر کھانا سب 70