قسمت کے ثمار — Page 66
66 99 پڑھنے والے کی مثال اس مشک کی تھیلی کی ہے جس سے وہ خود بھی فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کا ماحول بھی معطر ہوتا ہے۔مگر وہ جو بار بار نہیں پڑھتا اسکی مثال اس تھیلی کی ہے جس سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکتا ہو۔قرآن مجید کی ایک قیمتی خوشبو سے تشبیہ نہایت بلیغ اور پر معرفت ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت سے علم و معرفت میں ترقی کے ساتھ ساتھ طبیعت میں انشراح وسکون کی کیفیت بھی پیدا ہوتی ہے اور صرف پڑھنے والے کو ہی اس کا فائدہ نہیں ہوتا بلکہ سارا ماحول اس سے فائدہ حاصل کرتا ہے اور اس طرح قرآن مجید کی برکت بڑھتی اور پھیلتی چلی جاتی ہے۔خدا کرے کہ ہم اس بابرکت کلام سے ہمیشہ استفادہ کرنے والے ہوں اور ہمارے گھروں اور ہماری مجالس میں قرآنی برکات ہمیشہ جاری رہیں۔آمین دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآں کے گرد گھوموں کعبہ مرا یہی ہے الفضل انٹر نیشنل 5 مارچ 2004