قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 42 of 365

قسمت کے ثمار — Page 42

پاکستان آگئے اور بظاہر یوں لگتا تھا کہ اب قادیان کے جلسے بند ہو گئے ہیں۔اس وقت جماعت کی جو حالت تھی اس کا اظہار ایک احمدی شاعر نے عید کے چاند سے مخاطب ہو کر اس طرح کیا: شاعر مغموم کہتا ہے ہلال عید سے ڈوب بھی جادل میرا جلتا ہے تیری دید سے آسماں سے کیا ہمارے واسطے لایا ہے تو عید تو آئی نہیں ہے کس لئے آیا ہے تو تاہم ہمارے اولو العزم امام حضرت مصلح موعود بنایا لندن نے خدائی تائید و نصرت پر بھروسہ کرتے ہوئے کسی مایوسی و بد دلی کو اپنے قریب نہ آنے دیا اور جماعت کا شیرازہ پھر سے منظم کر کے تبلیغ و اشاعت اسلام کی مہم کو نہ صرف جاری رکھا بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ تیز کر دیا۔آپ نے ہجرت کے مسئلہ کو اسلامی تعلیمات کے روشنی میں دیکھتے ہوئے فرمایا: مقدس مقامات کو چھوڑ نا قدر تا طبع پر گراں گزرتا ہے بلکہ اسے گناہ تصور کیا جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی مصلحتیں بعض دفعہ اس کام کو جو عام حالات میں گناہ سمجھتا جاتا ہے ثواب بنادیتی ہیں مثلاً خانہ کعبہ کتنی مقدس اور بابرکت جگہ ہے لیکن رسول اللہ مال من المسلم اور آپ مالی ایلام کے صحابہ نے وہاں سے ہجرت کی۔اگر مقدس مقامات کو چھوڑ نا ہر حالت میں گناہ ہوتا تو آپ کبھی بھی مکہ کے مقام کو نہ چھوڑتے۔درحقیقت آپ سلایا کہ یلم صہ کی ہجرت بھی آپ کی صداقت کا ایک نشان تھا کیونکہ سینکڑوں برس قبل اللہ تعالیٰ نے مختلف انبیاء کے ذریعہ رسول کریم صلی یا اسلم کی ہجرت کی خبر دے رکھی تھی۔“ (روز نامہ الفضل 21 اپریل 1949 ء ) قادیان کے جلسوں کے ساتھ ساتھ ربوہ میں یہ جلسے پہلے سے کہیں زیادہ شان سے شروع ہو گئے۔شمع احمدیت کے پروانوں نے حالات کی مخالفت اور زمانے کے ظلم وستم سے ڈرنا اور ڈرکر 42