قسمت کے ثمار — Page 354
مولا نا عبدالمالک خان جیسے مربی کی خدمات حاصل تھیں اور حضرت مصلح موعود بنا ان کی خوشنودی اور بار با علم انعامی کا حصول بھی اس جماعت کا ایک امتیاز تھا۔خاکسار کو آٹھ سال تک کراچی کی خدمت کا موقع ملا۔اس کے بعد ملتان اور جہلم میں بھی خدمات کا موقع ملا۔پھر ایسا اتفاق ہوا کہ صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے ذمہ دار افسران نے تجربہ کے طور پر بعض مربیوں کو بیرون ملک بھجوانے کے لئے منتخب کیا جن تین مربیان کو اس مقصد کے لئے چنا گیا اُن میں اس خاکسار کے علاوہ مکرم قریشی محمد اسلم صاحب کا تقررگی آنا میں ہوا اور وہ وہاں مقام شہادت پر فائز ہوئے۔ہمارے تیسرے ساتھی مکرم عبد الحکیم جوزا صاحب تھے جو غانا مغربی افریقہ میں جامعہ احمدیہ کے پرنسپل کے طور پر خدمات بجالاتے رہے۔خاکسار تنزانیہ، کینیا، زیمبیا، زمبابوے اور ملاوی میں کم و بیش پندرہ سال خدمت کے بعد ر بوہ میں تصنیف کے کام پر مقرر ہوا۔فضل عمر فاؤنڈیشن میں کام کرتے ہوئے خاکسار کو سوانح فضل عمر“ کی تالیف کی سعادت حاصل ہوئی۔سوانح کی پہلی دو جلد میں حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمۃ اللہ نے مرتب فرمائیں۔آپ کے منصب خلافت پر فائز ہو جانے کے بعد آپ کی غیر معمولی مصروفیات کی وجہ سے یہ ممکن نہ رہا کہ وہ اس کام کو تکمیل تک پہنچاتے۔آپ نے مولانا محمد شفیع اشرف صاحب مرحوم کو اس کام کے لئے مقرر فرمایا۔اشرف صاحب اس زمانہ میں ناظر امور عامہ کی حیثیت سے خدمات بجالا رہے تھے۔اس اہم ذمہ داری اور کثرت کار کی وجہ سے وہ اس کام کے لئے زیادہ وقت نہ نکال سکے۔اس طرح یہ بہت بڑی ذمہ داری خاکسار جیسے کم علم او نا تجربہ کار شخص کوملی سوانح فضل عمر پانچ جلدوں میں مکمل ہوئی۔جن میں سے تین کی تالیف کی سعادت بفضل الہی نصیب ہوئی۔میدانِ عمل میں خدمت کے دوران کراچی، ملتان، جہلم، حیدرآباد (پاکستان) تنزانیہ، کینیا، زیمبیا ، زمبابوے، ملاوی (افریقہ ) میں خدمات کا موقع ملا۔اللہ تبارک تعالی کے فضل و احسان سے کامیابیاں ملتی رہیں۔جن کی تفصیل کسی اور وقت کے اٹھا رکھتا ہوں۔354