قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 353 of 365

قسمت کے ثمار — Page 353

رہا تھا کہ اچانک ہمارے اُستاد مولانا ابوالمنیر نور الحق صاحب تشریف لائے۔باہر کھڑے کھڑے انہوں نے خاکسار کا نام لے کر پوچھا کہ وہ موجود ہے۔خاکسار لبیک کہتے ہوئے ان کے پاس گیا تو وہ فرمانے لگے کہ آپ کو حضرت صاحب نے یاد فرمایا ہے۔یہ الفاظ سنتے ہی خاکسار کانپ اُٹھا اور پسینہ آ گیا۔اس بات پر یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ میرے جیسا نالائق سا گمنام سا ایک طالب علم اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے عظیم وجود کا بلاوا آیا ہو۔مولوی صاحب سے عرض کیا۔کیا اس خاکسار کو ہی بلایا ہے؟ کس لئے بلایا ہے؟ وغیرہ مگر مولوی صاحب کا ایک ہی جواب تھا کہ حضور خود بتائیں گے۔میں اپنی اس وقت کی حالت پوری طرح بیان نہیں کر سکتا انتہائی گھبراہٹ کی حالت میں دفتر پرائیویٹ سیکریٹری پہنچے۔محترم مولوی صاحب نے کاغذ پر عبدالباسط حاضر ہے، لکھ کر دفتر کے کارکن کو دیا جیسے ہی وہ کارکن او پر حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔خاکسار کو حضور کی خد مت میں حاضر ہونے کا اشارہ ہوا۔مولوی صاحب میرے ساتھ تھے اگر میں غلطی نہیں کرتا تو حضور اُسی وقت اندر سے تشریف لائے تھے اور اپنی کرسی کی پشت پر ہاتھ رکھے کھڑے تھے۔حضور نے لمبا فرغل پہنا ہوا تھا۔خاکسار نے دست بوسی کا شرف حاصل کیا تھا۔حضور نے خاکسار کی تعلیم کی متعلق بعض باتیں دریافت فرما ئیں اور بہت ہی حوصلہ افزائی فرمائی۔فرمایا کہ آدمی محنتی اور سمجھدار ہو تو کم تعلیم کے باوجود بڑے بڑے کام کر سکتا ہے۔اس حوصلہ افزائی کے بعد حضور نے بڑے اعتماد اور بڑے پیار سے تبویب اور اس سے متعلقہ سارے کاموں اور نصرت آرٹ پریس وغیرہ کے متعلق سارے کام کی نگرانی کا ارشاد فرمایا۔حضرت مولانا ابوالمنیر صاحب نے حضور کی ہدایات متعلقہ دفاتر کو بھجوائیں۔تبویب کی جو ایک جلد شائع ہوئی وہ خاکسار کی نگرانی میں نصرت آٹ پریس میں ہی شائع ہوئی۔خاکسار کا پہلا میدان عمل جماعت کراچی تھی اور یہ جماعت کئی لحاظ سے دنیا بھر کی جماعتوں میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔اس جماعت کو حضرت چوہدری عبداللہ خان جیسے امیر اور حضرت 353