قسمت کے ثمار — Page 350
ہے۔اُس وقت کا ربوہ اس سے بہت مختلف تھا۔گرمیوں میں شدید گرمی اور ٹو کے ساتھ ساتھ قریباً ہر روز ہی شدید آندھی آجاتی تھی اس آندھی سے گردو غبار کمروں میں ہی نہیں صندوقوں اور الماریوں میں بھی چلا جاتا اور صفائی کا مسئلہ مستقل تو جہ طلب رہتا۔پینے کا پانی بھی بہت کم ملتا تھا اور وہ بھی ڈور سے لانا پڑتا تھا۔یہ تو عام مسائل تھے جن کا ذکر ہمارے لٹریچر میں آچکا ہے۔جامعہ احمدیہ کا اپنا ماحول اور مخصوص مسائل تھے مثلاً جامعہ کی عمارت ایک لنگر خانہ کی عمارت تھی جو جلسہ سالانہ کے مہمانوں کے کھانا پکانے اور تقسیم کرنے کی جگہ تھی ظاہر ہے کہ یہ عارضی اور کچی عمارت تھی صحن میں ہر طرف روٹی پکانے کے تنور تھے بارش میں قریباً ہر چھت ٹپکتی اور ہر تنور پانی سے بھر جا تا تھا۔ایسے میں کیچڑا اور پانی سے کپڑوں اور کتابوں کو محفوظ کرنے کے لئے بعض اوقات اُن ٹینکیوں سے مدد لی جاتی تھی۔جو جلسہ کے دنوں میں پانی ذخیرہ کرنے کے کام آتی تھیں اور باقی دنوں میں بیکار پڑی رہتی تھیں۔ان حالات اور مشکلات کے بیان کے ساتھ یہ وضاحت بھی ضروری معلوم ہوتی ہے۔کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے حضرت مصلح موعود بنا یہ تعلیم کی ترقی اور واقفین کی بہتری کے لئے ہدایات جاری فرماتے رہتے تھے۔ہمیں بہترین اساتذہ سے صرف علم ہی نہیں تقویٰ، خدا ترسی اور لگن سے کام کرنے کی تربیت بھی حاصل ہوتی تھی۔خدمت دین کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے اس سے بہتر ماحول کم ہی کسی کو میسر ہو گا۔حضرت مصلح موعود بنا شدہ کا کامیاب سنہری دور اس طرح دیکھنے کا موقع ملا کہ ہر روز ہی نئی کامیابیوں اور فتوحات کے نظارے ہوتے تھے۔تحریک جدید اور خدام الاحمدیہ کے آغاز کا بھر پور زمانہ دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔اساتذہ کرام کا تفصیلی ذکر تو ممکن نہیں تاہم یہ امر کتنا خوشکن اور قابل تشکر ہے کہ ہمارے بعض اساتذہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کرام بنا لی تھے۔اس طرح جماعت کے بہترین مبلغ ، مصنف مقر ر جیسے حضرت ابوالعطاء صاحب، حضرت قاضی محمد نذیر صاحب سے استفادہ کا موقع ملا۔ربوہ میں جن بزرگوں سے کسب فیض کے مواقع ملے۔ان میں حافظ مختار احمد صاحب شاہجہانپوری رہی۔اور حضرت مولانا غلام رسول صاحب 350