قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 34 of 365

قسمت کے ثمار — Page 34

میری دعا کا جواب ہے تاہم آنے والی خاتون کے اصرار پر اگلے روز ان کے ہاں گئیں۔واپس آئیں تو دروازہ میں نے کھولا۔میری طرف دیکھ کر خوش تو وہ طبعی طور پر ہوئیں۔مگر ان کا رد عمل عام خوشی سے کچھ زیادہ تھا میں نے کہا کہ آپ کو میری ربوہ آمد کی خوشی نہیں ہوئی (ان دنوں خاکسار ملتان میں بطور مربی خدمت بجالا رہا تھا) کہنے لگیں کہ خوشی جیسی خوشی میں ان کے ہاں سے ہو کر آرہی ہوں۔واپسی پر میں سوچ رہی تھی کہ بچی کے ابا جان قادیان ہیں میں گھر میں اکیلی ہوں اس سلسلہ میں کس سے مشورہ کروں گی اور پھر میں نے آتے آتے دعا کی کہ خدا کرے میرے گھر پہنچنے پر دروازہ میرا بیٹا کھولے اور خدا کی شان ہے کہ دروازہ کسی اور نے نہیں بلکہ تم نے ہی کھولا۔-4 ایک دفعہ ایک چھوٹی بہن امتہ الباری ناصر نے جو لاہور میں زیر تعلیم تھیں لکھا کہ ہوٹل میں کھانا تو برابر ملتا ہے مگر کبھی کبھی پڑھتے ہوئے کچھ کھانے کو جی چاہتا ہے اگر کوئی پنجیری بنا کر بھجوا دیں تو مجھے بڑی سہولت ہوسکتی ہے۔یہاں پنجیری کی عیاشی کا بھی سامان نہیں تھا۔درویش کی بیوی خدا کے سامنے سجدہ ریز ہوگئی ابھی نماز سے فارغ نہیں ہوئی تھیں کہ آواز آئی کہ یہ گھی چھوڑے جارہی ہوں نماز کے بعد اسے سنبھال لیں سلام پھیر کر دیکھا تو گھی کا بھرا ہوا ایک کٹورا تھا اس سے پنجیری تیار کر کے لاہور بھجوا دی۔بعد میں پتہ چلا کہ ایک پڑوسن کو دیسی گھی کا تحفہ ملا تھا، خدا نے اس کے دل میں ڈالا کہ اس میں سے آدھا اپنی در ولیش بہن کو دے آؤں۔_5 خدائی تائید کے ایسے متعدد واقعات ہمیں بتا یا کرتی تھیں مثلاً یہ کہ ایک دفعہ میں اپنے چھوٹے بیٹے کے پاس حیدر آباد گئی۔شام کو یہ خیال آیا کہ ان کے پاس کوئی زائد چار پائی تو نہیں ہے اور سوتے وقت مشکل پیش آئے گی اور بچے میرے 34