قسمت کے ثمار — Page 345
بہت بچپن سے مختلف مذاہب کی معلومات حاصل ہونے لگیں۔اس وقت کے ماحول کی وجہ سے ہمارے ہاں تبلیغ کا بہت شوق وجذ بہ اور مواقع تھے۔مجھے یاد ہے ہم اس زمانے میں اپنے ہم عمر احراری بچوں سے مناظرے کیا کرتے تھے جن میں ہماری نمائندگی مجھ سے تین سال بڑے میرے بڑے بھائی جان عبدالمجید کرتے تھے۔ہماری اس پارٹی میں بہت سے بچے تھے تا ہم شیخ عبدالمجید صاحب ( جو بعد میں فیصل آباد میں کاروبار کرتے رہے اور آجکل غالباً جرمنی میں ہیں ) نمایاں ہوتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ ہم ان مباحثات میں احمدیہ پاکٹ بک سے مدد لیا کرتے تھے۔مجلس احرار کا مرکزی دفتر بھی ہمارے محلے میں تھا جو ایک یا دومرلے پر مشتمل ایک چھوٹی سی مسجد میں تھا۔اس مسجد کو با قاعدہ کوئی رستہ نہیں جاتا تھا۔ایک جوہڑ کے ساتھ پگڈنڈی سی بنی ہوئی تھی جس کے ذریعے وہاں تک بمشکل پہنچا جاسکتا تھا۔ہم نے وہاں کبھی نماز ہوتے یا کوئی اور جلسہ ہوتے نہیں دیکھا۔باہر پیشانی پر ایک بورڈ ضرور لٹکتا رہتا تھا۔ان کی یہ کسمپرسی کی کیفیت اور اخباروں میں بڑے بڑے دعوے اور فتوحات کی روداد میں دیکھ کر ہمیں خوشگوار حیرت ہوتی تھی اور یہ بھی کہ ان لوگوں کے یہ دعوے اور تعلیاں احمدیت کی صداقت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ایک چھوٹے سے میدان میں جو غیر مسلموں کی آبادی میں تھا کبھی کبھی جلسہ بھی ہوتا تھا۔یہاں پر ہی ہمیں مجلس احرار کے بعض بڑے بڑے ناموں سے تعارف حاصل ہوا۔مولوی عبداللہ معمار صاحب جلسے پر آیا کرتے تھے اور کئی دفعہ ایسے بھی ہوا کہ ان کی واپسی پر ان کے تانگے میں ہم بچے بھی سوار ہو جایا کرتے تھے اور بھائیجان کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے بعض دفعہ وہ بہت زچ ہو جایا کرتے تھے۔قادیان میں کچھ عرصہ ان کے ایک بہت مشہور مولوی صاحب کا رہنا بھی یاد ہے۔ان کا نام محمد حیات تھا۔بے ریش و بروت ہونے کی وجہ سے زیادہ تر کھودا کے نام سے یاد کئے جاتے تھے۔ان کو اپنے نام کے ساتھ فاتح قادیان، لکھنے کا بہت شوق تھا۔خدا تعالی 345