قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 344 of 365

قسمت کے ثمار — Page 344

اللهم لالى ولا على ہمارے دادا جان حضرت میاں فضل محمد صاحب نے قادیان ہجرت کے بعد دارالفضل میں اپنا مکان بنایا۔ہم اسی گھر میں رہتے تھے پھر ہمارے ابا جان نے ذاتی مکان محلہ دار الفتوح میں بنوایا تھا۔اس محلے کے متعلق یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ نسبتا نیا محلہ تھا جسے غالباً قریبی محلوں کے پھیل جانے کی وجہ سے انتظامی لحاظ سے الگ محلہ کا نام دیا گیا۔یہ دار الرحمت اور دار الفضل سے متصل ہونے کی وجہ سے محلوں میں شامل تھا مگر مسجد اقصی اور مسجد مبارک کے حلقوں سے متصل ہونے کی وجہ سے شہر، بھی کہلاتا تھا۔یہاں یہ وضاحت بھی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ قادیان کو بالعموم دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا تھا: محلے اور شہر۔اس زمانے میں علمی اور ورزشی مقابلوں میں ٹیموں کی شناخت کے لئے تھے جیسے یہ شہر کی ٹیم ہے، یہ محلے کی ٹیم ہے۔بات لمبی ہورہی ہے لیکن اس کی تاریخی اہمیت اور اس وجہ سے بھی کہ وہ لوگ جن کو قادیان جانے یا وہاں رہنے کا اتفاق نہیں ہوا، ان کے لئے یہ تفصیل لچسپی کا باعث ہوگی۔ہمارے محلے کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ بھی تھی کہ یہ اور محلوں کے برعکس سو فیصد احمدی آبادی پر مشتمل نہیں تھا ہمارے محلے میں بعض غیر مسلم ہندو سکھ بھی رہتے تھے اور بعض غیر احمدی مسلم بھی۔اس خصوصیت کی وجہ سے غیر احمدیوں کی چھوٹی سی جلسہ گاہ بھی اسی محلے میں تھی اور اس طرح 344