قسمت کے ثمار — Page 330
یہاں تک کہ ہمارا ایک وفد گورنر پنجاب سے ملنے کیلئے گیا تو اسے کہا گیا کہ تم لوگوں نے احرار کی اس تحریک کی اہمیت کا اندازہ نہیں لگایا۔ہم نے محکمہ ڈاک سے پتہ لگایا ہے۔پندرہ سوروپے روزانہ ان کی آمدنی ہے ( اس زمانہ میں پندرہ سورو پے یقیناً ایک خطیر رقم تھی۔ناقل ) تو اس وقت گورنمنٹ انگریزی نے بھی احرار کی فتنہ انگیزی سے متاثر ہوکر ہمارے خلاف ہتھیار اٹھالئے اور یہاں کئی بڑے افسر بھیج کر۔۔۔احرار کا جلسہ کروایا گیا۔“ ( تقریر فرمودہ 27 دسمبر 1943 ء ) " تحریک جدید کے پیش کرنے کے موقع کا انتخاب ایسا اعلیٰ انتخاب تھا جس سے بڑھ کر اور کوئی اعلیٰ انتخاب نہیں ہو سکتا اور خدا تعالیٰ نے مجھے اپنی زندگی میں جو خاص کامیابیاں اپنے فضل سے عطا فرمائی ہیں ان میں ایک اہم کامیابی تحریک جدید کوئین وقت پر پیش کر کے مجھے حاصل ہوئی اور یقیناً میں سمجھتا ہوں۔جس وقت میں نے یہ تحریک کی وہ میری زندگی کے خاص مواقع میں سے ایک موقع تھا اور میری زندگی کی ان بہترین گھڑیوں میں سے ایک گھڑی تھی جبکہ مجھے اس عظیم الشان کام کی بنیا درکھنے کی توفیق ملی۔اس وقت جماعت کے دل ایسے تھے جیسے چلتے گھوڑے کو جب روکا جائے تو اس کی کیفیت ہوتی ہے۔“ الفضل 8 فروری 1936 ء ) پس جماعت کو اپنی ترقی اور عظمت کیلئے اس تحریک کو سمجھنا اور اس پر غور کرنا نہایت ضروری ہے۔۔۔یہ تحریک بھی۔۔۔پہلے مخفی تھی مگر جب اس پر غور کیا گیا تو یہ اس قدر تفصیلات کی جامع نکلی کہ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے زمانے کیلئے اس میں اتنا مواد جمع کر دیا ہے کہ اصولی طور پر اس میں وہ تمام باتیں آگئی ہیں جو کامیابی 330