قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 327 of 365

قسمت کے ثمار — Page 327

حضرت خلیفہ اسیح الثانی بیان کے اس زمانہ کے ارشادات و تقاریر کا خلاصہ خود آپ کے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے: یا درکھنا چاہئے کہ ہمارا مقصد فتح نہیں بلکہ نیکی اور تقویٰ کی فتح حاصل کرنا ہے اور یہ چیزیں حاصل نہیں ہوتیں جب تک انسان خدا کیلئے موت قبول کرنے کو تیار نہ ہو۔موت اور صرف موت کے ذریعہ یہ فتح حاصل ہوسکتی۔۔۔پھر موت بھی ایک وقت کی نہیں بلکہ وہ جو ہر منٹ اور ہر گھڑی آتی ہے۔پس اپنے نفوس میں تبدیلی پیدا کر و۔قلوب کو پاک کرو۔زبان کو شائستہ اور اپنے آپ کو اس امر کا عادی بناؤ کہ خدا کیلئے دکھ اور تکلیفوں کو برداشت کر سکو تب تم خدا کا ہتھیار بن جاؤ گے اور پھر خدا ساری دنیا کو کھینچ کر تمہاری طرف لے آئے گا۔۔۔(روز نامه الفضل ربوہ 17 نومبر 1997ء) تحریک جدید کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے آپ نبی نہ فرماتے ہیں: تحریک جدید کی غرض بھی یہی ہے کہ وہ لوگ جو اس۔۔۔۔میں حصہ لیں خدا ان کے ہاتھ بن جائے ، خدا ان کے پاؤں بن جائے ، خدا ان کی آنکھیں بن جائے اور خدا ان کی زبان بن جائے اور وہ ان نوافل کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے ایسا اتصال پیدا کر لیں کہ ان کی مرضی خدا کی مرضی اور ان کی خواہشات خدا کی خواہشات ہو جائیں۔“ الفضل 27 جون 1941 ء ) تحریک جدید کے بنیادی مقاصد میں سے ایک اہم مقصد کا ذکر کرتے ہوئے حضرت صاحب رضی اللہ فرماتے ہیں: " تحریک جدید۔۔۔۔سے میری غرض یہی ہے کہ ہم دنیا میں اسلام کی تعلیم قائم کریں۔یہ تعلیم اس وقت کئی ہوئی ہے اور ہم یہ کہہ کر اپنے دل کو خوش کر لیتے ہیں کہ اس کا 327