قسمت کے ثمار — Page 326
کھاتے ہیں ہم تو مر گئے۔تم میں سے کئی ہیں جو کہتے ہیں ہمیں تو ہمیشہ سادہ رہنا پڑتا ہے ہم تو مر گئے۔تم میں سے کئی ہیں جو کہتے ہیں ہمیں رات دن چندے دینے پڑتے ہیں ہم تو مر گئے۔میں کہتا ہوں ابھی تم زندہ ہو۔میں تو تم سے حقیقی موت کا مطالبہ کر رہا ہوں کیونکہ خدا یہ کہتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے تو پھر میں تمہیں زندہ کروں گا۔پس یہ موت ہی ہے جس کا میں تم سے مطالبہ کر رہا ہوں۔اور یہ موت ہی ہے جس کی طرف خدا اور اس کا (رسول) تمہیں بلاتا ہے اور یاد رکھو کہ جب تم مرجاؤ گے تو اس کے بعد خدا تمہیں زندہ کرے گا۔پس تم مجھے یہ کہہ کر مت ڈراؤ کہ ان مطالبات پر عمل کرنا موت ہے۔میں کہتا ہوں یہ موت کیا اس سے بڑھ کر تم پر موت آنی چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کامل احیاء تمہیں حاصل ہو۔پس اگر یہ موت ہے تو خوشی کی موت ہے۔اگر یہ موت ہے تو موت ہے تو اور بہت ہی مبارک ہے وہ شخص جو موت کے اس دروازے کے ہاتھوں ہمیشہ کیلئے زندہ کیا جائے گا۔“ ( الفضل 22 اگست 1939 ء ) تحریک جدید مخالفت کی خوفناک آندھیوں میں شروع ہوئی تھی جب مخالفوں نے اس جماعت کو ختم کرنے کے منصوبوں کا برملا اظہار کرنا شروع کر دیا تھا اور مخالفت کے ظاہری اسباب وجتھہ کے لحاظ سے وہ جماعت کے مقابلہ میں بہت زیادہ طاقتور اور صاحب اثر ورسوخ تھے۔حضرت خلیفۃ لمسیح الثانی بیان طوفانوں کی زد میں آئی ہوئی اور بغض وعداوت کے منجدھار میں پھنسی ہوئی اس چھوٹی سی کشتی کو خدا تعالیٰ کے فضل و احسان کے سہارے کس طرف اور کس طرح لے جارہے تھے۔انسانی عقل یقیناً اپنے عجز و اعتراف کرنے پر مجبور ہوگی جب وہ یہ دیکھے گی کہ بالمقابل کوئی نعرہ نہیں ہے کوئی تعلیٰ نہیں ہے کوئی دھمکی نہیں۔۔بلکہ چشم حیران اس نفس مطمئنہ کو اور زیادہ عاجزانہ راہیں اختیار کرتے ہوئے دیکھتی ہے۔326