قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 325 of 365

قسمت کے ثمار — Page 325

ہمارے ہاں یورپ کی نقالی اور مغرب سے مرعوبیت کا افسوسناک رجحان بھی عام ہے۔اس سلسلہ میں یہ بات بہت عجیب ہے کہ مغرب اپنی عیاشی، تکلف ، روایت پرستی کی مشکلات اور نقصانات کو دیکھتے ہوئے اس سے تائب ہو رہا ہے۔ڈھیلا ڈھیلا لباس ، بغیر کریز کے پینٹ کاسمیٹکس کے استعمال میں کمی وغیرہ ان کے ہاں عام ہو رہی ہے۔حضرت مصلح موعود بنی اور ہم کو جس قربانی کیلئے آمادہ وتیار دیکھنا چاہتے تھے اس کے متعلق آپ صلی اللہ فرماتے ہیں: ”ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ پہلے اس چیز کو سمجھے کہ وہ ہے کیا۔جب تک اس مقام کو وہ نہیں سمجھتی اس وقت تک اسے اپنے کاموں میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔تحریک جدید تو ایک قطرہ ہے اس سمندر کا جو قربانیوں کا تمہارے سامنے آنے والا ہے۔وہ شخص جو قطرہ سے ڈرتا ہے وہ سمندر میں کب کو دے گا۔“ ہمیشہ کی زندگی کی طرف بلاتے ہوئے آپ بڑی نہ فرماتے ہیں: وو ( الفضل 2 جولا ئی 1936ء)۔۔۔میں سمجھتا ہوں اگر ایک مرے ہوئے باایمان انسان کے کانوں میں یہ تحریک پہنچ جاتی تو اس کی رگوں میں خون دوڑ نے لگتا اور وہ سمجھتا کہ میرے خدا نے میرے مرنے سے پہلے ایک ایسی تحریک کا آغاز کرا کے اور مجھے اس میں حصہ لینے کی توفیق عطا فرما کر میرے لئے اپنی جنت کو واجب کردیا۔۔میں جماعت کے تمام دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ تحریک جدید کی ہر قسم کی قربانیوں میں حصہ لیں اور جو وعدے انہوں نے کئے ہوئے ہیں انہیں پورا کریں اور سمجھ لیں کہ یہ ایک موت ہے جس کا ان سے مطالبہ کیا جارہا ہے۔تم میں سے کئی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نے سینیما نہیں دیکھا، ہم مر گئے۔تم میں سے کئی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم ہمیشہ ایک کھانا 325