قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 312 of 365

قسمت کے ثمار — Page 312

کو یہ دیکھ کر عجیب حیرت ہوئی کہ ان کا امیر تو امام کی اطاعت اور قربانی کے جذبہ و جوش سے قادیان کی طرف پیدل ہی روانہ ہو چکا ہے۔اس نمونہ کو دیکھتے ہوئے نوجوان بھی بخوشی قادیان کا پرخطر پیدل سفر کر کے طلوع فجر کے وقت قادیان پہنچ گئے اور حالات کی نزاکت کے پیش نظر انہیں فوری طور پر مختلف مقامات پر متعین کر دیا گیا۔ان نوجوانوں نے (جن میں سے اکثر خوش نصیب شاندار خدمات انجام دینے کے بعد خدا کے حضور حاضر ہوچکے ہیں ) اپنے تاثرات میں یہ بات ضرور بیان کی ہے کہ خطرہ کے ان ایام میں یوں لگتا تھا کہ ہمارے امام دن رات کسی وقت بھی آرام نہیں کرتے اور کئی دفعہ ایسا بھی ہوا کہ انتہائی حساس مقام پر رات کے وقت ڈیوٹی پر کھڑے خدام کو اچانک چیک کرنے والے کوئی اور نہیں خود امام جماعت ہوتے تھے۔ظاہر ہے کہ اس مثالی نمونہ کو دیکھتے ہوئے خدام کے دلوں میں قربانی کے جذبہ اور جوش عمل میں کس طرح اور کس قدر اضافہ ہو جاتا ہوگا۔جماعت کی مالی قربانی آج اپنی مثال آپ ہے۔قربانی کے اس جذبہ کے اور محرکات بھی ضرور ہوں گے لیکن اس میں بھی یقیناً حضرت خلیفہ اسی الثانی بھی ان کی سیرت اور جذ بہ جھلک رہا ہے۔حضرت صاحب نے کئی مواقع پر اپنی جائیداد بیچ کر جماعت کی خدمت میں لگانے کا ارادہ فرمایا۔کئی قیمتی جائیدادیں عملاً جماعت کی مالی حالت کو مستحکم کرنے کیلئے ہبہ کر دیں۔پچیس سالہ جو بلی کے موقع پر کم و بیش تین لاکھ روپے کی خطیر رقم جو آج کل کے افراط زر میں تین کروڑ سے زائد ہوگی جماعت کی بہبودی کے لئے وقف کر دی اور اپنی ذات یا اولاد پر خرچ نہ کی۔ہر تحریک پر سب پہلے بڑھ چڑھ کر اپنا چندہ پیش فرمایا۔اشاعت قرآن کے صدقہ جاریہ میں ایک خطیر رقم پیش فرمائی اور غرباء ومساکین کی مدد کے لئے بے شمار وظائف جاری فرمائے۔اگر آج ہماری مالی قربانی اپنی مثال آپ ہے تو اس میں اس مرد خدا کی قربانی اور جذبہ کا بہت بڑا دخل ہے۔تقسیم برصغیر کے وقت مشرقی پنجاب میں ایسے خطرناک حالات پیدا ہو گئے کہ وہاں رہنے والے مسلمانوں کے لئے زندہ رہنے کے امکانات معدوم ہو گئے۔لاکھوں مجبور اور مظلوم اپنے باپ 312