قسمت کے ثمار — Page 300
زیستن کے اصول پر قائم رہے۔محض زندہ رہنے کے لئے جن چیزوں کی ضرورت تھی انہی کو استعمال کیا۔لیکن باوجود اس کے کہ اپنی ذات پر بہت کم خرچ کرتے تھے اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے غریبوں کا حصہ برابر نکالتے رہے۔نادار اور بے کس وجودوں کا سہارا بنے رہے۔عزت و وقار اور دوسروں کی نگاہ میں عزت کا مقام، ذاتی خواہش اور تگ و دو اور تصنع اور تکلف سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے، اعلیٰ کردار اور دوسروں سے ہمدردی اور خیر خواہی کرنے سے ملتا ہے۔حضرت مولوی صاحب بینی اشتہ کے اخلاق وکردار کی مضبوطی کی ایک دنیا گواہ ہے۔جماعت کے ایک بہت بڑے طبقہ کے ممدوح تھے۔جس کسی کو وہ جانتے تھے (اور ان کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا ) اور اس میں کوئی ایسا نقص پایا جو تو جہ دلانے سے دور ہوسکتا۔بالخصوص تعلیم و تعلم کے ضمن میں حضرت مولوی صاحب اس کی نشاندہی فرما دیتے اور یہ تنقیدی اقدام تعلیم و تربیت کے اعتبار سے نہایت مفید ہوتا۔جماعت کے سینکڑوں نوجوان ادھیڑ عمر بلکہ اب بوڑھے بھی حضرت مولوی صاحب کے فیض رسانی کے اس جذبہ کی قدر کرتے ہیں۔ہم میں سے بہتوں کی غلطیاں الفاظ کی ، حضرت مولوی صاحب کے توجہ دلانے سے ہی دور ہوئیں۔حضرت مولوی صاحب میں یہ صفت نمایاں تھی کہ جو نبی لفظ کا غلط استعمال یا علمی غلطی ان کے نوٹس میں آتی علم کا یہ بلند مینار اپنے علم سے متعلقہ شخص کو بہرہ ور کرنے میں کوتا ہی نہ کرتا۔مربیان اور نوجوان کارکنوں کو صحیح معنوں میں عالم بنانے میں اس عالم بے بدل کا خاص حصہ ہے ان کی ہر وقت یہ خواہش ہوتی کہ جماعت کے نمائندے علم میں بے مثل اور مکمل ہوں۔اخلاقی جرات کے مالک تھے۔نڈر اور صاف گو، حق کو حق کہنے والے اور باطل کو باطل کہنے والے تھے۔سکول کو مستقل بنیادوں پر کھڑا کرنے والے حضرت مولوی محمد دین صاحب بینی نہ ہی تھے۔ان کے تمام کارناموں میں سے ان کا یہ ایک کارنامہ بھی سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہے کہ انہوں نے جماعت کے نونہالوں کو صیح لائنوں پر ڈال کر انہیں جماعت احمدیہ کا مفید اور کارآمد وجود بنالیا۔ان کی یہ 300