قسمت کے ثمار — Page 28
نے تو اپنی بیوی کو سرمایہ دیا ہوا تھا مگر میں نے اپنی بیوی کو خالی ہاتھ بچوں کے ہمراہ پاکستان بھجوادیا تھا اور اس نے میرے سب بچوں کو علم کے زیور سے آراستہ کیا۔ایک اور بات یاد آ رہی ہے جو ربوہ کے ایک بزرگ نے کئی دفعہ سنائی کہ ایک دفعہ بھائی جی اپنے ایک بچے کو ہمراہ لے کر میری دکان پر رکے اور اسے ایک جو تا خرید کر دیا۔میں نے ان سے کہا کہ بھائی جی اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت کچھ دے رکھا ہے مگر آپ نے یہ ستا جوتا خرید کیا ہے۔۔۔۔۔کہنے لگے کہ یہ ٹھیک ہے کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے مگر میں نے اس بچے کی زندگی وقف کی ہے اسے سادگی کی عادت ہونی چاہیے ان کی نیک نیت کی برکت سے اس خاکسار کو کئی ممالک میں خدمت دین کی توفیق ملی جو پیارے ابا جان کی طمانیت کا باعث تھی اور اب صدقہ جاریہ ہے۔میرے ابا جان ۶ فروری ۱۹۸۰ کو ربوہ میں وفات پاگئے جسد خا کی قادیان پہنچایا گیا خاکسار نے یہ خبر افریقہ میں سنی۔درجات کی بلندی کے لئے دعا گور ہتا ہوں۔مولی کریم اعلی علیین سے نوازے۔آمین اللھم آمین۔28