قسمت کے ثمار — Page 284
خود رعایا کے لئے تباہی و بربادی کے سامان پیدا ہوتے ہیں۔دیکھو بنگال میں جو شورش کی گئی اس سے گورنمنٹ کو کوئی ایسا نقصان نہیں پہنچا مگر رعایا لٹ رہی ہے۔ڈاکے پڑ رہے ہیں قبل ہو رہے ہیں، فساد وفتنہ پھیل رہا ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ حکومت کا رعب ہی ہوتا ہے اور اسی سے ملک میں امن قائم رہتا ہے۔۔۔" الفضل 14اگست 1917 ء ) ملکی آزادی کی کوششوں کو توازن و اعتدال میں رکھنے اور دہشت گردی سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: " کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن میں ملک کی آزادی کا جوش ہے۔میں ان لوگوں کی کوششوں کو پسند کرتا ہوں مگر بعض دفعہ وہ ایسا رنگ اختیار کر لیتی ہیں کہ انگریزوں کو نقصان پہنچانے کے خیال میں وہ اپنی قوم کے اخلاق اور اس روح کو جو حکومت کیلئے ضروری ہوتی ہے تباہ کر دیتی ہیں۔ایسے لوگ بہت خطر ناک ہوتے ہیں۔۔۔جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ دین حق کو گالی دینے سے دین کی ہتک ہوگی۔وہ اگر عیسائی ہے تو عیسائی مذہب کا دشمن ، اگر سکھ ہے تو سکھ مذہب کا دشمن اور اگر ہندو ہے تو هند و دھرم کا دشمن، ہتک تو دراصل گالی دینے والی کی ہوتی ہے۔۔۔اگر کوئی شخص مجھے گالیاں دیتا ہے تو وہ اپنی بد اخلاقی کا اظہار کرتا ہے۔۔۔میں گالیاں سنتا ہوں اور برداشت کرتا ہوں تو اپنے بلند اخلاق کا اظہار کرتا ہوں۔۔۔وہ لوگ جو قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں وہ بھی مجرم ہیں اور اپنی قوم کے دشمن ہیں اور جوان کی پیٹھ ٹھونکتا ہے وہ بھی قوم کا دشمن۔“ (12 اپریل 1929ء) بدامنی اور فساد کے مقابلہ میں ہمارا طریق کار کیا ہونا چاہئے اس امر پر روشنی ڈالتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: 284