قسمت کے ثمار — Page 248
بھی قرآن مجید کے شرف و مرتبہ کو ظاہر کرنے کے لئے اپنی نوعمری سے ہی قرآن مجید کا درس دینا شروع کیا اور زندگی بھر اس مبارک طریق کو جاری رکھا۔آپ کی مشہور زمانہ معرکتہ الآراء تفسیر کبیر کیا بتداء بھی درس قرآن کی شکل میں ہوئی تھی۔خدا بھلا کرے آپ کے ساتھ کام کرنے والے ان مخلص ساتھیوں کا جنہوں نے بڑی توجہ اور اخلاص سے ان درسوں کو ایسے وقت میں محفوظ کیا جبکہ درس ریکارڈ کرنے کے لئے کوئی مشین ایجاد نہیں ہوئی تھی۔اور اس طرح ان قرآنی معارف کو عام کرنے اور ہم تک پہنچانے کے لئے مجاہدانہ ہمت و محنت سے کام لیا۔حضرت مصلح موعود بنا نشوہ کی تفسیر کبیر اور تفسیر صغیر سے تو جماعت واقف ہے مگر حضور بانیوں کی جلسہ سالانہ کی فضائل القرآن کے نام سے سلسلئہ تقاریر بھی قرآنی علوم کا بہترین مخزن ہیں۔جماعت میں خدمت قرآن کے جذبہ سے سر شار خدام کی کثرت حضرت مسیح موعود علیہ) کے تجدیدی کارنامہ کی مظہر ہے۔حضرت حافظ روشن علی صاحب بنی یہ ، حضرت میر محمد احق صاحب بولی الہ ، حضرت مولانا سید سرور شاہ صاحب بیل کے تراجم قرآن مجید جماعت میں بہت مقبول رہے اور ترجمہ قرآن سیکھنے کے لئے بہت مفید تراجم تھے۔انگریزی زبان میں حضرت مولوی شیر علی صاحب بینی ، حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب بینی اور حضرت مکرم ملک غلام فرید صاحب بیٹی ایمن کو بہت نمایاں خدمات بجا لانے کی توفیق حاصل ہوئی۔دوسری متعدد بین الاقوامی زبانوں میں بھی جماعت کے زیر انتظام تراجم بھی علم قرآن کو عام کرنے کی خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ کے مذکورہ عنوان شعر میں آپ کی یہ خواہش اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ علوم قرآن کو پانی کی طرح عام کر دے اور گاؤں گاؤں میں امام رازی وایتیم یہ جیسے علماء پیدا ہوں۔حضرت امام فخر الدین رازی دای لینا یہ 1149 ء میں رے (ایران) میں پیدا ہوئے۔آپ نے اسلامی علوم پر تحقیق و تصنیف میں زندگی بسر کی۔آپ کی تفسیر قرآن کو اسلامی دنیا میں سب سے زیادہ 248