قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 235 of 365

قسمت کے ثمار — Page 235

ترجمہ اور وقت کی رعایت سے کسی قدر تفسیر بھی بیان ہوتی۔تھوڑے وقت میں قرآنی مطالب جاننے کی یہ بہترین صورت ہوتی تھی۔پہلے بزرگ تو پورے قرآن کریم کا اکیلے ہی درس دیتے تھے تاہم بعد میں دس دس پارے اور پھر اس کے بعد تو اس سے بھی کم حصے کا درس ایک عالم کے حصہ میں آتا تھا۔بیرونی جماعتوں میں جہاں علماء کرام موجود ہوتے تھے وہاں بالعموم پورے قرآن مجید کا درس ایک عالم ہی دیا کرتا تھا۔نماز تراویح کا بھی خاص اہتمام ہوتا تھا۔اکثر مساجد میں حفاظ کرام بڑی عقیدت و پیار سے قرآن مجید سناتے تھے۔حفاظ کرام میں سے سب سے زیادہ شہرت تو حافظ روشن علی صاحب نیا نہ کو ملی۔اسی طرح حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی بنی نہ کی تلاوت کی بھی بہت شہرت سنی ہے۔کہا جاتا ہے کہ ان کی تلاوت کی آواز سن کر تو کئی دفعہ راہ چلتے غیر مسلم بھی رُک جاتے اور کھڑے ہو کر ان کی مسحورگن آواز سے لطف اندوز ہوتے۔حضرت حافظ محمد رمضان صاحب کی نماز تراویح میں بھی بہت کشش ہوتی۔لوگ بڑے اہتمام سے دور کے محلوں سے ان کے پیچھے نماز پڑھنے کے لئے آتے۔ان کی آواز بہت بلند تھی۔پڑھنے کے انداز سے ہی پتہ چلتا تھا کہ وہ مفہوم کو سمجھ کر پڑھ رہے ہیں اور خاصے کی چیز یہ تھی کہ نماز کے بعد خلاصہ مضمون بھی بہت عمدگی سے بیان فرما یا کرتے تھے جن میں مضمون کے مطابق حضرت مسیح موعود علیشام کے عارفانہ اشعار بہت خوبصورتی سے استعمال کئے جاتے تھے۔قادیان اور ربوہ میں یہ مبارک سلسلے کسی نہ کسی شکل میں برابر جاری ہیں۔ایک غلام احمد کے ذریعہ قادیان سے نکلنے والے چشمہ صافی سے قرآن وحدیث کی برکات دنیا بھر میں وسیع ہوگئی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ ان برکات سے زیادہ سے زیادہ متمتع ہونے کی توفیق دیتار ہے۔آمین۔(الفضل انٹرنیشنل14اکتوبر2005ء) 235