قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 227 of 365

قسمت کے ثمار — Page 227

دروازہ کو کھٹکھٹایا جو اس کے لئے کھولا نہ گیا۔لیکن افسوس کہ اکثر انسانوں کی یہی عادت ہے کہ وہ سفلی زندگی کو پسند کر لیتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ نوران کے اندر داخل ہو۔“ (روحانی خزائن جلد 23 چشمہ معرفت ص 303) اللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلّمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِ وَالِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِيْنَ الفضل انٹرنیشنل 30 ستمبر 2005ء) غیر محدود ترقی قرآن مجید انسانی پیدائش کی غرض وغایت کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے فرماتا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ یعنی انسانی پیدائش کی اصل غرض اسی صورت میں ظاہر ہوسکتی ہے جب وہ عبادت یعنی قرب الہی کے حصول کی کوشش میں اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائے اور اس کی تمام خداداد طاقتیں اس نقطہ مرکزی پر مرکوز رہیں کہ وہ خداشناسی و خدا دانی کے لئے کوشاں ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علی) جو اس زمانہ میں معرفت الہی کی گمشدہ کیفیت کو زندہ کرنے کے لئے مبعوث کئے گئے تھے عبادت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”عبادت اصل میں اس کو کہتے ہیں کہ انسان ہر قسم کی قساوت ، اور بھی کو دور کر کے دل کی زمین کو ایسا صاف بنادے جیسے زمیندار زمین کو صاف کرتا ہے۔عرب کہتے ہیں مَوْرٌ مُعَبَّد جیسے سرمہ کو باریک کر کے آنکھوں میں ڈالنے کے قابل بنا لیتے ہیں اسی طرح جب دل کی زمین میں کوئی کنکر پتھر ناہمواری نہ رہے اور ایسی صاف ہو کہ گو یا روح ہی 227