قسمت کے ثمار — Page 226
کیا گیا۔صرف ہم ان نبیوں کی نسبت اپنی رائے ظاہر کرتے ہیں جن کا ذکر قرآن شریف میں ہے۔جیسے حضرت موسیٰ ، حضرت داؤ د حضرت عیسی علیہم السلام اور دوسرے انبیاء۔سو ہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ اگر آنحضرت سیلا پیلم دنیا میں نہ آتے اور قرآن شریف نازل نہ ہوتا اور وہ برکات ہم بچشم خود نہ دیکھتے جو ہم نے دیکھ لئے تو ان تمام گزشتہ انبیاء کا صدق ہم پر مشتبہ رہ جاتا۔کیونکہ صرف قصوں سے کوئی حقیقت حاصل نہیں ہو سکتی اور ممکن ہے کہ وہ قصے صحیح نہ ہوں کیونکہ اب ان کا نام ونشان نہیں۔بلکہ ان گزشتہ کتابوں سے تو خدا کا پتہ بھی نہیں لگتا اور یقینا نہیں سمجھ سکتے کہ خدا بھی انسان سے ہمکلام ہوتا ہے۔لیکن آنحضرت سالیا ایلم کے ظہور سے یہ سب قصے حقیقت کے رنگ میں آگئے۔اب نہ ہم قال کے طور پر بلکہ حال کے طور پر اس بات کو خوب سمجھتے ہیں کہ مکالمہ الہیہ کیا چیز ہوتا ہے۔اور خدا کے نشان کس طرح ظاہر ہوتے ہیں اور کس طرح دعائیں قبول کی جاتی ہیں۔اور یہ سب کچھ ہم نے آنحضرت صلی ا یہ ہم کی پیروی سے پایا۔اور جو کچھ قصوں کے طور پر غیر قو میں بیان کرتی ہیں وہ سب کچھ ہم نے دیکھ لیا۔پس ہم نے ایک ایسے نبی کا دامن پکڑا ہے جو خدا نما ہے۔۔۔۔ہم کس زبان سے خدا کا شکر کریں جس نے ایسے نبی کی پیروی ہمیں نصیب کی جو سعیدوں کی ارواح کے لئے آفتاب ہے جیسے اجسام کے لئے سورج۔وہ اندھیرے کے وقت میں ظاہر ہوا اور دنیا کو اپنی روشنی سے روشن کر دیا۔وہ نہ تھکا نہ ماندہ ہوا جب تک کہ عرب کے تمام حصہ کو شرک سے پاک نہ کر دیا۔وہ اپنی سچائی کی آپ دلیل ہے کیونکہ اس کا نور ہر ایک زمانہ میں موجود ہے اور اس کی سچی پیروی انسان کو یوں پاک کرتی ہے کہ جیسا ایک صاف اور شفاف دریا کا پانی میلے کپڑے کو۔کون صدق دل سے ہمارے پاس آیا جس نے اس نور کا مشاہدہ نہ کیا۔اور کس نے صحت نیت سے اس 226