قسمت کے ثمار — Page 219
منزل کتنی قریب ہے ، سب پر واضح ہے! مختصر یہ کہ ہر تدبیر آزما کر دیکھ لی۔اصلاح بذریعہ نظام اور اصلاح بذریعہ تربیت افراد اور اصلاح بذریعہ جہاد۔اوپر سے نیچے کی طرف اور نیچے سے اوپر کی طرف۔پھر بتائیے اور کون سی کوشش رہ گئی ہے جو بروئے کار لانا ابھی باقی ہے؟ اور اس کا نیا طریقہ کون سا ہے جس کو اختیار کرنا باقی ہے۔لیکن زوال ہے کہ کہیں رکنے کا نام نہیں لیتا۔۔۔وسعت نظر و مطالعہ سے کئے گئے اس جائزہ میں انہوں نے یہ پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا کہ اس وقت دنیا میں قدرتی وسائل سے مالا مال مسلم حکومتیں موجود ہیں جو غلبہ اشاعت اسلام کے لئے مفید کام کر سکتی ہیں مگر ان کے الفاظ میں : مسلمان ممالک کی تمام ہی قیادتیں اسلامی سوچ سے محروم ہیں۔اس کی واضح مثال مسلمان ممالک میں بادشاہتوں کا قیام اور سیکولر طرز زندگی ہے۔عرب ممالک کو کون سمجھائے اور کس طرح سمجھائے کہ ان کی بادشاہتوں کا اسلام سے اور عصری تقاضوں سے کوئی جوڑ نہیں ہے۔اس کے باوجود ہم ہیں کہ غلبے کی بشارتیں سنائے جا رہے ہیں۔اگر عرب خود اس چیز کو نہیں سمجھتے تو وقت سمجھا دے گا۔وہ بہترین استاد ہے۔کچھ تو سمجھا رہا ہے اور کچھ مزید سمجھا دے گا۔کوششوں کے ضمن میں مصر کے اخوان المسلمون اور شمالی افریقہ کی تحریک سنوسی دونوں نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔یہ ہرگز نہیں کہا جاسکتا کہ ان تحریکوں کے اثرات نہیں ہوئے لیکن ان ممالک کی غلبہ اسلام کے حصول میں ناکامی اور سابقہ حالت کا حسب معمول برقرار رہنا بھی واضح ہے۔“ مذکورہ بالا فاضلانہ بیان سے تو وہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے جو فاضل سکالر نے نکالا ہے۔مگر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس سارے تفصیلی تجزیہ میں یہ ذکر کہیں بھی نہیں آیا کہ زوال امت اور گمراہی و کم 219