قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 213 of 365

قسمت کے ثمار — Page 213

قسمت کے شمار دل اور بشاشت سے قبول کیا تاہم بعض اوقات بعض لوگوں کی طرف سے یہ بات بھی سننے میں آجاتی رہی کہ ہم ابھی وصیت کے تقاضوں کو پوری طرح پورا نہیں کر سکتے اس لئے ابھی تک اس نظام میں شامل نہیں ہوئے ، بظاہر یہ بات بہت معقول لگتی ہے اور اس سے فوری تاثر یہی قائم ہوتا ہے کہ ایسا کہنے والا نظام وصیت کی اہمیت اس کے تقدس اور اعلیٰ معیار کو خوب سمجھتا ہے اور اسی وجہ سے ابھی تک اس نظام میں شامل نہیں ہو سکا اور یہ بھی کہ اس کا دل تو یہی چاہتا ہے کہ وہ خوش قسمت موصیوں کی جماعت میں شامل ہو جائے۔مگر اس بات کو بنظر غور دیکھا جاوے تو حقیقت کچھ اور ہی ملے گی۔ہر وہ شخص جسے احمدیت میں شامل ہونے اور حضرت مسیح موعود علی کے دعاوی پر ایمان لانے کی سعادت حاصل ہوئی ہے اس نے ایک بہت بڑے چیلنج کو قبول کر لیا ہے۔دنیا میں پیدا ہو جانے والی بے شمار خرابیوں اور بدعتوں اور فیج اعوج، یعنی ہزار سالہ دور گمراہی کی سستیوں اور غفلتوں کو ترک کر کے اسلام کی حسین و دلکش تعلیم پر پوری طرح عمل کرنے کا نام ہی تو احمدیت ہے۔یہی وجہ ہے کہ سستی اور کم ہمتی کی یہاں کسی طرح بھی کوئی گنجائش نہیں ہے۔بعض دفعہ وعظ ونصیحت کی مجلس میں یہ بات بھی سننے میں آجاتی ہے کہ باتیں تو یہ بہت اچھی ہیں مگر ہم نے کوئی ولی اللہ تو بنا نہیں ہے۔یہ بھی اس فقرے سے ملتا جلتا فقرہ ہے جس کا پہلے ذکر ہوا ہے اور اس میں سستی بلکہ بے عملی اور بے راہ روی کا رجحان واضح نظر آتا ہے۔حضرت مسیح موعود کی کتب اور ملفوظات میں یہ تاکیدی ارشاد ملتا ہے کہ ”ولی بنو۔ولی پرست نہ بنو گویا ایک سچا مسلمان یعنی احمدی کبھی بھی دون ہمتی اور کسل کو اپنے پاس نہیں آنے دیتا۔اس کے پاس بہترین لائحہ عمل یعنی شریعت موجود ہے۔اس کے پاس بہترین استاد یعنی آنحضرت کی سنت اور احادیث موجود ہیں جن پر اخلاص سے عمل پیرا ہونا اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ خدا اور اس کے رسول کی محبت کی برکت سے صالحیت وصلاحیت میں ترقی کرتے کرتے قرب کے اعلیٰ مقامات اور منازل پر فائز ہو جائے گا۔جماعت احمدیہ میں شمولیت کے لئے جو دس شرائط بیعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مقرر 213