قسمت کے ثمار — Page 210
ہماری آج کی دنیا میں جس کے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ یہ علم و فہم اور سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا ہے ، دہشتگردی بھی اپنی انتہاء کو پہنچ گئی ہے۔دنیا کا کوئی کو نہ ایسا نہیں ہے جس کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہو کہ وہاں امن و امان ہے اور لاقانونیت و دہشتگردی نہیں ہے۔مشرق و مغرب میں ، ترقی پذیر ممالک واقوام میں اگر اس قابل نفرت عمل کا دور دورہ ہے تو ترقی یافتہ ممالک بھی اس سے پاک نہیں ہیں۔سائنس اور ٹیکنالوجی جو انسانی خدمت کا ایک بہت بڑا ذریعہ بن سکتی تھی تباہی و بربادی کی طرف دھکیلتے ہوئے بدامنی، بے چینی اور بے اطمینانی کی فضا پیدا کر رہی ہے۔مزدوری کے لئے گھر سے نکلنے والا ایک غریب آدمی یا کسی سپر پاور کا سر براہ گھر سے باہر جاتے ہوئے برابر خوف کا شکار ہوتا ہے کہ واپس خیریت سے گھر آ سکے گا کہ نہیں۔مائیں اپنے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو سکول بھجواتے ہوئے ڈر رہی ہوتی ہیں کہ ان کا بچہ کسی اغوا برائے تاوان کرنے والے ظالم درندے یا کسی دہشت گرد جنونی کے خود کش حملے کی زد میں تو نہیں آ جائے گا۔اور تو اور ایک نمازی نماز پڑھنے کے لئے مسجد جاتے ہوئے مطمئن نہیں ہوتا کہ وہ دلجمعی وسکون سے خدا کی عبادت کر کے واپس اپنے بچوں میں زندہ بھی آسکے گا یا مسجد کو اپنے خون سے رنگین کر کے کسی خون کے پیاسے انسان نما وحشی کی پیاس کی بھینٹ چڑھ جائے گا۔اسلامی شریعت میں انسان کو شرف و عزت کا مستحق قرار دیتے ہوئے کسی ایک انسان کے قتل کو قطع نظر اس کے کہ اس کا عقیدہ و مذہب اور طریق کارکیا ہے،ساری انسانیت کے قتل سے تعبیر فرمایا ہے۔اسلامی شریعت میں کسی شخص کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر اپنی صوابدید اور مرضی سے جس طرح چاہے لوگوں کو سزا دیتا پھرے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں کسی جاہل متعصب مسلمان نے دو انگریز عیسائیوں کو قتل کر دیا۔حضور علیہ السلام نے اس حرکت کو خلاف اسلام بلکہ اسلام کو بدنام کرنے کا باعث قرار دیتے ہوئے فرمایا:۔۔۔ایسے نابکار لوگوں نے اسلام کو بدنام کر رکھا ہے۔چاہئے تو یہ تھا کہ ان لوگوں 210