قسمت کے ثمار — Page 17
مطب فرماتے تھے اور مسجد مبارک اور دارا مسیح کے مقامات مقدسہ کے عین وسط میں ایک دو قدم کے فاصلہ پر واقع آپ موصوف کے والد بزرگوار میاں عبد الرحیم درویش کی جانی پہچانی معروف دیانت سوڈا واٹر فیکٹری تھی۔آپ نے دکان کے سامنے ایک بلیک بورڈ آویزاں کر رکھا تھا۔اس بورڈ پر روزانہ تازہ بتازہ دلچسپ اچھوتے جملے ، جو خدا تعالیٰ آپ کو سمجھاتا تھا، بڑے خوش خط چاک سے لکھتے تھے۔خاکسار کو یاد نہیں کہ کبھی مسجد مبارک ، مسجد اقصیٰ یا دار مسیح کے مقامات مقدسہ کو جاتے ہوئے آپ کی عبارت آرائی بڑی دلچسی سے پڑھی نہ ہو بلکہ پہلے سے ہی منتظر رہتا تھا کہ دیکھیں آج آپ نے کیا لکھا ہوگا۔آج محسوس ہوتا ہے کہ میاں عبد الرحیم درویش مرحوم کی اس وقت کی عبارت آرائی نے ہرسیاں کے اس وقت میں ساری دنیا میں پھیلے ہوئے وسیع ٹبر میں تحریر کے ملکہ کی جاگ لگادی ہو۔خدا کے فضل سے آج اس خاندان میں ایک سے ایک بڑھ کر مشاق اور منجھے ہوئے مصنفین کی ایک کہکشاں ہے اور یہ سب کچھ حضرت سلطان القلم کے اعجاز کا کرشمہ ہے۔برادرم مکرم عبد الباسط صاحب شاہد ان خوش قسمت واقف زندگی علماء میں ہے ہیں جنہیں بالکل عنفوان شباب میں بلکہ ابھی شاید ان کی میں نہیں پھوٹی ہوں گی ، حضرت المصلح الموعود کے ارشاد پر حدیث کے انتخاب کی سب سے بڑی کتاب مسند احمد بن حنبل کی تبویب کیلئے مامور کیا گیا۔آپ کو سب سے کم عمری میں یہ اعزاز عطا کیا گیا۔یہ عظیم علمی کام ہنوز نامکمل تھا کہ آپ کی تبد یلی بطور مبلغ کراچی ی فعال ترین جماعت میں کر دی گئی۔آپ کی غیر حاضری میں تبویب کے کام کی رفتار میں کچھ ستی سی آئی تو آپ کو حضرت امصلح الموعود نے کراچی سے ربوہ بلا کر تبویب کے اہم کام کو پھر سے آپ کے سپر د کرتے ہوئے یہ تاریخ ساز جملہ فرمایا: آدمی محنتی اور سمجھدار ہو تو کم تعلیم کے باوجود بڑے بڑے کام کر سکتا ہے۔“ اس فقرہ میں جہاں حضرت امصلح الموعود نے آپ کی محنت اور سمجھ بوجھ کی تعریف فرمائی وہاں اپنے حسن ظن اور نور فراست سے بڑے بڑے کام کرنے کی پیشگوئی بھی فرما دی۔خدا