قسمت کے ثمار — Page 175
فرائض کو عمدگی سے ادا کر رہی تھی۔مکرم شیخ صاحب کی آمد سے ان میں ایک نئی روح اور ولولہ پیدا ہو گیا۔مخالف مولوی صاحب کو ان حالات کا پوری طرح اندازہ نہیں تھا۔ان کا خیال تھا کہ وہ بھولے بھالے جاہل لوگوں میں اپنی علمیت اور زبان کی تیزی وطراری کی وجہ سے قبولیت حاصل کر کے ہیرو بن جائیں گے۔مگر جب ان کو جماعت کے ایک ایسے عالم باعمل سے مقابلہ کرنا پڑا جو جذ بہ وقف سے سرشار تھا تو انہوں نے اسی میں عافیت سمجھی کہ چپکے سے واپس گھر چلے جائیں۔تاہم محترم شیخ صاحب کو وہاں لمبا عرصہ قیام کی توفیق حاصل ہوئی اور میدان جہاد میں بڑی بڑی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔مختلف اہم شہروں میں مساجد اور مشن ہاؤسز کا قیام عمل میں آیا۔مشہور عیسائی مناذ بلی گراہم کو قبولیت دعا اور شفا بخشی کے سلسلہ میں چیلنج دیا گیا اور اس چیلنج کو قبول کرنے میں ناکامی سے مشرقی افریقہ بلکہ ساری دنیا کو پتہ چلا کہ مسیح موعود عملیات علمی اور روحانی طور پر ”کسر صلیب“ کا کام سرانجام دے چکے ہیں۔اور اسلام کے مقابلہ میں صلیبی مذہب کھڑا نہیں ہوسکتا۔مشرقی افریقہ کے مشن کو خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک بہت بڑی خدمت کی توفیق ملی کہ پہلی دفعہ سواحیلی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ کر کے اسے وسیع پیمانہ پر شائع کیا گیا۔یہ سعادت مکرم شیخ مبارک احمد صاحب اور ان کے ساتھی مبلغین مکرم شیخ امری عبیدی صاحب مرحوم، مکرم مولا نا محمد منور صاحب، مکرم مولانا جلال الدین قمر صاحب کے حصہ میں آئی۔اس طرح اس تاریک براعظم کو قرآنی روشنی سے منور کر دیا گیا۔مکرم شیخ امری صاحب بھی مشرقی افریقہ مشن کو ملنے والا ایک خوبصورت پھل تھا۔طالب علمی کے زمانہ میں احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔زندگی وقف کر دی۔بہت جوش وجذ بہ کے ساتھ تبلیغ کا فریضہ ادا کرتے رہے۔اس سلسلہ میں ماریں بھی کھائیں مگر ہمیشہ ثابت قدمی کے ساتھ خدمت کے میدان میں آگے سے آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔جامعہ احمد یہ ربوہ میں مزید تعلیم کے لئے گئے۔ان کے ساتھی طالبعلم بتاتے ہیں کہ آپ بہت محنتی اور مخلص نوجوان تھے۔رات دیر تک مطالعہ 175