قسمت کے ثمار — Page 141
صراط مستقیم سورہ فاتحہ جسے اُم القرآن بھی کہا جاتا ہے ایک ایسی جامع مکمل دعا ہے جسے ہر ضرورت ہر مشکل ہر کیفیت میں پوری دلجمعی سے مانگ کر سکون واطمینان اور قبولیت دعا کے نظارے دیکھے جاسکتے ہیں۔اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة (6) میں توازن و اعتدال اور منزل مقصود تک پہنچنے کا بہترین ذریعہ یا راستہ مانگا گیا ہے۔کامیابی کے حصول کے لئے اس سے بہتر کوئی اور چیز ذہن میں نہیں آسکتی۔فلاح و نجاح کے حصول کی یہ کلید حاصل کرنے کے لئے اسی دعا میں یہ بھی بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت و استقامت کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔عبادت کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی حاصل ہوتی ہے اور فضل الہی کو جذب کرنے کے لئے خدا کی تائید ونصرت کے سوا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے اسی حقیقت کو إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحة (5) میں بیان کیا گیا ہے۔خدا تعالیٰ سے مدد مانگنے اور اس کی تائید سے فیض یاب ہونے کے مضمون کو قرآن مجید مزید واضح کرتے ہوئے فرماتا ہے: وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ (البقرة (46) کہ خدا تعالیٰ سے مدد چاہتے ہو تو صبر ،نیکیوں پر مداومت اور بدیوں سے مکمل اجتناب اور دعاؤں سے کام لو اور یہ بھی کہ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے مگر ان خوش قسمت لوگوں 141